ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 95

قُلۡ لَّوۡ کَانَ فِی الۡاَرۡضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَئِنِّیۡنَ لَنَزَّلۡنَا عَلَیۡہِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوۡلًا ﴿۹۵﴾
کہہ دے اگر زمین میں فرشتے ہوتے، جو مطمئن ہو کر چلتے (پھرتے) تو ہم ضرور ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام پہنچانے والا اتارتے۔ En
کہہ دو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے (کہ اس میں) چلتے پھرتے (اور) آرام کرتے (یعنی بستے) تو ہم اُن کے پاس فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے
En
آپ کہہ دیں کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہوتے تو ہم بھی ان کے پاس کسی آسمانی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

95۔ آپ ان سے کہئے کہ: اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم آسمان سے ان کے لئے کوئی فرشتہ [113] ہی رسول بنا کر بھیجتے۔
[113] رسول کا بشر ہونا کیوں ضروری ہے؟
چونکہ دنیا میں انسان آباد ہیں لہٰذا ان کے لیے رسول بھی انسان ہی ہونا چاہئے۔ وجہ یہ ہے کہ رسول کا کام اتنا ہی نہیں ہوتا کہ وہ اللہ کا پیغام پہنچا دے یا اس پیغام کی تشریح و توضیح کر دے۔ بلکہ یہ کام بھی ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ احکام پر عمل کر کے دکھائے اور امت کو ایک عملی نمونہ بھی پیش کرے۔ اب فرض کیجئے ایک فرشتہ رسول بن کر آتا اور آدمی کی شکل میں آتا، وہ اللہ کا پیغام پہنچاتا اور ان احکام پر عمل کر کے بھی دکھلا دیتا۔ تو لوگ یہ کہنے میں حق بجانب ہوتے کہ یہ عملی نمونہ دکھانے والا تو فرشتہ تھا۔ اس میں نہ بشری کمزوریاں پائی جاتی تھیں نہ اسے بشری ضروریات کی احتیاج تھی۔ لہٰذا ہم اس فرشتے جیسے کام کیسے کر سکتے ہیں اور وہ ہمارے لیے نمونہ کیسے بن سکتا ہے۔ مزہ تو جب تھا کہ وہ ہماری طرح کا انسان ہوتا پھر ان احکامات پر عمل کر کے دکھاتا۔ [نيز اس سلسله ميں سورة انعام كي آيت نمبر 7 تا 9 كے حواشي بهي ملاحظه فرما ليجئے]