ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 79

وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا ﴿۷۹﴾
اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کے ساتھ بیدار رہ، اس حال میں کہ تیرے لیے زائد ہے۔ قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے۔ En
اور بعض حصہ شب میں بیدار ہوا کرو (اور تہجد کی نماز پڑھا کرو) ۔ (یہ شب خیزی) تمہاری لئے (سبب) زیادت ہے (ثواب اور نماز تہجد تم کو نفل) ہے قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے
En
رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں یہ زیادتی آپ کے لئے ہے عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

79۔ اور رات کو آپ تہجد (کی نماز) ادا [98] کیجئے یہ آپ کے لئے زائد [99] (نماز) ہے۔ عین ممکن ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کو مقام محمود [100] پر فائز کر دے۔
[98] نماز تہجد کی رکعات:۔
تہجد کے لغوی معنی تو صرف رات کو ایک دفعہ سونے کے بعد رات کے ہی کسی حصہ میں بیدار ہونا ہے اور اس سے شرعاً وہ نماز مراد ہے جو رات کو سونے کے بعد طلوع فجر سے پہلے پہلے رات کے کسی حصہ میں نصف شب کے بعد ادا کی جائے۔ اس نماز کی تعداد رکعات اور وقت کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ایک رات میں اپنی خالہ ام المومنین میمونہ (بنت حارث) کے ہاں سویا میں تو بچھونے کی چوڑان میں لیٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی لمبے رخ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آرام فرمایا۔ اور کم و بیش آدھی رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے۔ بیٹھ کر اپنی آنکھیں ملنے لگے۔ پھر اچھی طرح وضو کر کے نماز پڑھنے لگے۔ میں نے بھی اٹھ کر وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب ساتھ ہی کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور دایاں کان پکڑ کر مجھے اپنے (پیچھے سے لا کر) دائیں طرف کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں پھر دو، پھر دو، پھر دو، پھر دو اور پھر دو (کل بارہ رکعات) پھر وتر پڑھا پھر لیٹ رہے تا آنکہ مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہلکی پھلکی رکعتیں پڑھیں۔ پھر باہر نکلے اور صبح کی نماز پڑھائی۔ [بخاری، کتاب الوضوء باب قراءۃ القرآن نیز کتاب العلم۔ باب السمر بالعلم]
2۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات (تہجد) کی نماز کے متعلق سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو، دو رکعت کر کے پڑھو۔ پھر جب کسی کو صبح ہو جانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ لے وہ ساری نماز کو طاق بنا دے گی عبد اللہ بن عمرؓ کہا کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ رات کی نماز کے اخیر میں وتر پڑھا کرو۔ [بخاری، کتاب الصلوٰۃ۔ باب الحلق والجلوس فی المسجد]
[99] یعنی نماز تہجد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تا زیست فرض رہی۔ واقعہ معراج اور پانچ نمازوں کی فرضیت سے پہلے نماز تہجد مسلمانوں پر فرض تھی جیسا کہ سورۃ مزمل کے پہلے رکوع میں اس کی وضاحت ہے۔ پھر جب پانچ نمازیں فرض ہو گئیں تو عام مسلمانوں پر نماز تہجد فرض نہ رہی جیسا کہ سورۃ مزمل کے دوسرے رکوع میں: ﴿فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ سے واضح ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ نماز اسی آیت کی رو سے فرض ہوئی۔ جب صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں سورۃ فتح نازل ہوئی اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے یہ خوشخبری دی کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب اگلی پچھلی لغزشیں معاف فرما دی ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز میں پہلے سے بھی زیادہ قیام فرمانے لگے۔ چنانچہ بروایت بخاری نماز تہجد میں لمبے قیام کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں متورم ہو جاتے تھے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب اگلی پچھلی لغزشیں معاف فرما دیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿اَفَلاَ اَكُوْنَ عَبْدًاشَكُوْرًا یعنی کیا پھر میں اللہ کے اس احسان اور فضل کے عوض اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں“ [بخاری، کتاب التہجد۔ باب قیام النبی اللیل حتی ترم قدماہ]
امت کے لیے اگرچہ یہ نماز نفل ہے اور امت پر مشقت کی وجہ سے اس کی فرضیت ساقط کر دی گئی ہے۔ تاہم اس نماز کی بہت فضیلت آئی ہے اور اس کی بہت ترغیب دی گئی ہے۔ گویا ہماری مروجہ شرعی اصطلاح میں سنت مؤکدہ ہے۔
نماز تراویح یا قیام اللیل:۔
واضح رہے کہ نماز تہجد ہی کا دوسرا نام قیام اللیل ہے جیسا کہ بخاری کے عنوان باب سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ اور ماہ رمضان میں قیام اللیل کو نماز تراویح کا نام دیا گیا ہے جو ماہ رمضان میں عموماً نماز عشاء کے بعد متصل ہی با جماعت نماز ادا کر لی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان میں یہ نماز تہجد (یا قیام اللیل یا تراویح) صرف دو دن با جماعت پڑھائی تھی۔ پھر تیسرے یا چوتھے دن پھر لوگ نماز کے لیے جمع ہوئے تو آپ جماعت کے لیے نکلے ہی نہیں اور صبح کی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے جماعت کے لیے نہ آنے کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور یہ واقعہ رمضان میں ہوا۔ [بخاری، کتاب التہجد باب تحریض النبی علی قیام اللیل، نیز کتاب الصوم باب فضل من قام رمضان]
اور یہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ گیارہ رکعت ہی ادا کی۔ آٹھ رکعت تراویح اور تین رکعت وتر جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ رمضان ہو یا غیر رمضان آپ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعت سے زیادہ کبھی نہیں پڑھتے تھے۔ پہلے چار رکعت پڑھتے اور ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا کہنا۔ پھر چار رکعت پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا کہنا۔ پھر تین رکعت پڑھتے۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہؓ! آنکھیں (ظاہر میں) سوتی ہیں مگر دل نہیں سوتا“۔ [بخاری، کتاب التہجد، باب قیام النبی باللیل فی رمضان وغیرہ]
اب با جماعت نماز تراویح کے متعلق درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: عبد الرحمن بن عبد قاری کہتے ہیں کہ رمضان کی ایک رات میں سیدنا عمرؓ کے ساتھ (ان کے دور خلافت میں) مسجد نبوی میں گیا۔ ہم نے دیکھا کہ لوگ مختلف ٹولیوں میں نماز تراویح ادا کر رہے ہیں۔ کوئی تو اکیلا ہی پڑھ رہا ہے۔ اور کچھ ٹولیاں ایک امام کے پیچھے نماز ادا کر رہی ہیں۔ سیدنا عمرؓ کہنے لگے کہ اگر میں ان سب کو ایک امام کے پیچھے اکٹھا کر دوں تو یہ بہتر ہو گا۔ یہ ارادہ کرنے کے بعد آپ نے سیدنا ابی بن کعب کو سب لوگوں کا امام بنا دیا۔ پھر اس کے بعد کسی دوسری رات میں سیدنا عمرؓ کے ہمراہ مسجد میں گیا تو دیکھا کہ سب لوگ اپنے قاری (ابی بن کعبؓ) کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں۔ سیدنا عمرؓ نے کہا نعم البدعۃ ھذہ یعنی یہ بدعت تو اچھی ہے نیز لوگوں سے کہا کہ رات کا وہ حصہ جس میں تم سوتے رہتے ہو اس حصے سے افضل ہے جس میں تم نماز پڑھتے ہو اور لوگ شروع رات میں تراویح پڑھ لیتے۔ (قیام اللیل کر لیتے) [بخاری، کتاب الصوم، باب فضل من قام رمضان]
سیدنا عمرؓ اور با جماعت نماز تراویح:۔
اس حدیث سے درج ذیل امور کا پتہ چلتا ہے:
1۔ سیدنا عمرؓ نے جب تراویح کی نماز با جماعت کا حکم دیا تو نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس میں شامل ہوئے نہ آپ کے ساتھی عبد الرحمن بن عبد قاری۔ اسی طرح جب کسی دوسری رات معائنہ کیا تو جماعت دیکھ کر بھی نہ آپ خود اس میں شامل ہوئے اور نہ آپ کے ساتھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس جماعت کو نہ ضروری سمجھتے تھے اور نہ بہتر ورنہ آپ خود اس میں شامل ہو جاتے۔
2۔ سیدنا عمرؓ نے یہ وضاحت بھی فرما دی کہ قیام اللیل یا نماز تراویح کے لیے رات کا پہلا حصہ افضل نہیں جس میں یہ لوگ با جماعت نماز پڑھ رہے تھے بلکہ رات کا آخری حصہ افضل ہے اور سیدنا عمرؓ خود رات کے آخری حصہ میں ہی اکیلے نماز ادا کرتے تھے۔
3۔ آپؓ نے جو یہ فرمایا کہ ”یہ اچھی بدعت ہے“ تو اس سے آپ کی مراد صرف موجودہ شکل تھی۔ یعنی متفرق طور پر پڑھنے سے اکٹھے نماز پڑھنا بہتر ہے۔ ورنہ یہ شرعی اور اصطلاحی معنوں میں بدعت نہیں تھی۔ (جو بہرصورت گمراہی ہوتی ہے) کیونکہ قیام اللیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی کیا اور صحابہ کرامؓ نے بھی۔ علاوہ ازیں کم از کم تین دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت بھی کرائی تھی گویا اس کی دو بنیادیں سنت نبوی سے ثابت تھیں۔ لہٰذا اسے معروف معنوں میں بدعت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور موطا امام مالک کی روایت کے مطابق آپ نے جب نماز تراویح کی جماعت کا حکم دیا تو گیارہ رکعت (وتر سمیت) کا ہی حکم دیا تھا۔ ہمارے ہاں عشاء کے بعد نماز تراویح با جماعت رائج ہے۔ اس میں دو مصلحتیں ضرور ہیں ایک تو حفاظ کرام کو اس بہانے دہرائی کا موقع مل جاتا ہے۔ دوسرے لوگوں کی سہولت بھی اسی وقت میں ہے ورنہ افضل وقت وہی ہے جس کی سیدنا عمرؓ نے وضاحت کر دی ہے۔
[100] مقام محمود کی مختلف توجیہات:۔
مقام محمود سے مراد ایسا مرتبہ ہے کہ سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمد و ثنا کرنے لگیں۔ اور اس کی کئی توجیہات ہیں مثلاً ایک یہ کہ ایسا مقام قدر و منزلت اور حمد و ستائش آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زندگی میں عطا فرما دیا تھا، دوسری یہ کہ جنت میں ایک بلند مقام ہے جس کا نام ہی مقام محمود ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا جائے گا اور تیسری یہ کہ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کو دیکھ کر سب لوگ گھبراہٹ میں ہوں گے وہ چاہیں گے کہ اللہ کے حضور ان کی کوئی سفارش کرے وہ سیدنا آدمؑ اور پھر ان کے بعد باری باری سب انبیاء سے سفارش کی التجا کریں گے مگر ہر نبی اپنی کوئی نہ کوئی تقصیر یاد کر کے معذرت کر دے گا۔ بالآخر سب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے تو آپ لوگوں کی یہ التجا قبول کر کے اللہ کے حضور ان کی سفارش کریں گے۔۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 255 کے حواشی) اس توجیہ کے لحاظ سے مقام محمود سے مراد مقام شفاعت ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی یہی وضاحت فرمائی ہے۔ چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقام محمود کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اس سے مراد مقام شفاعت ہے“ [ترمذي، ابواب التفسير]
اس وقت سب لوگوں کی زبان پر آپ کی حمد و ستائش جاری ہو جائے گی۔ نیز ہمیں اذان کے بعد جو دعا سکھائی گئی ہے اس میں ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقام محمود پر کھڑا ہونے کی دعا کرتا ہے جس میں ضمناً یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ کوئی بلند مرتبہ بزرگ اپنے سے چھوٹے یا کم تر درجہ کے آدمی کو اپنے حق میں دعا کے لیے کہہ سکتا ہے اور چھوٹے یا کم تر درجہ کے آدمی کی دعا اپنے سے بلند مرتبہ بزرگ کے حق میں قبول ہو سکتی ہے۔