اگر تم نے بھلائی کی تو اپنی جانوں کے لیے بھلائی کی اور اگر برائی کی تو انھی کے لیے، پھر جب آخری بار کا وعدہ آیا (تو ہم نے اور بندے تم پر بھیجے) تاکہ وہ تمھارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ وہ مسجد میں داخل ہوں، جیسے وہ پہلی بار اس میں داخل ہوئے اور تا کہ جس چیز پر غلبہ پائیں اسے برباد کر دیں، بری طرح برباد کرنا۔
En
اگر تم نیکوکاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لئے کرو گے۔ اور اگر اعمال بد کرو گے تو (اُن کا) وبال بھی تمہاری ہی جانوں پر ہوگا پھر جب دوسرے (وعدے) کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد (بیت المقدس) میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اُسے تباہ کردیں
اگر تم نے اچھے کام کئے تو خود اپنے ہی فائده کے لئے، اور اگر تم نے برائیاں کیں تو بھی اپنے ہی لئے، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے دوسرے بندوں کو بھیج دیا تاکہ) وه تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور پہلی دفعہ کی طرح پھر اسی مسجد میں گھس جائیں۔ اور جس جس چیز پر قابو پائیں توڑ پھوڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیں
En
7۔ (دیکھو) اگر تم نے بھلائی کی تو اپنے ہی لئے بھلائی کی اور اور اگر برائی کی اس کا وبال بھی تمہی پر ہو گا۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آگیا کہ (جابر فاتحین) تمہارے حلیہ بگاڑ دیں اور مسجد (اقصیٰ) میں ایسے ہی داخل ہوں جیسے پہلے بار داخل ہوئے تھے اور جہاں جہاں غلبہ پائیں اسے تہس نہس کر دیں [8]۔
[8] سیدنا عزیرؑ کی خدمات:۔
اس تباہی کے بعد سیدنا عزیرؑ نے دین موسوی کی تجدید کا بہت بڑا کام سرانجام دیا اور آپ نے قوانین شریعت کو نافذ کر کے ان اعتقادی اور اخلاقی برائیوں کو دور کرنا شروع کیا جو بنی اسرائیل کے اندر غیر قوموں کے اثر سے گھس آئی تھیں۔ اور بنی اسرائیل سے از سر نو اللہ کی بندگی اور اس کے احکام کی پابندی کا پختہ عہد لیا۔ تورات کو ازسر نو اپنی ذہنی یادداشت کے مطابق مرتب کر کے شائع کیا اور یہودیوں کی دینی تعلیم کا بھی انتظام کر دیا۔ اس طرح ڈیڑھ سو سال بعد بیت المقدس پھر سے آباد اور یہودی مذہب و تہذیب کا پھر سے مرکز بن گیا۔
یہود کی دوسری بار فتنہ انگیزی اور اس کی سزا:۔
لیکن بعد میں پھر وہی پہلی قسم کی خرابیاں بنی اسرائیل میں از سر نو پیدا ہو گئیں۔ شرک، بے حیائی، بد کاری عام ہو گئی اور جب سلطنت پھر سے کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی تو ان کے علاقہ پر رومیوں کا قبضہ ہو گیا مگر یہود نے اصلاح احوال کے بجائے پھر بغاوت کا راستہ اختیار کیا تو 70 ء میں رومی بادشاہ ٹیٹس (قیطوس) نے یروشلم کو بزور شمشیر فتح کر کے پورے علاقہ کو تہس نہس کر دیا۔ قتل عام میں ایک لاکھ 33 ہزار آدمی مارے گئے اور 67 ہزار کے قریب غلام بنا لیے گئے۔ خوبصورت لڑکیاں فاتحین کے لیے چن لی گئیں۔ یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو پیوند خاک کر دیا گیا، اور فلسطین سے یہودی اثر و اقتدار کا ایسا خاتمہ ہوا کہ انھیں پھر کبھی سر اٹھانے کی جرأت نہ ہوئی۔ اور یہ دوسری بڑی سزا تھی جو یہود کو ان کی فتنہ انگیزیوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی تھی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔