ساتوں آسمان اور زمین اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ بھی جو ان میں ہیں اور کوئی بھی چیز نہیں مگر اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ بے شک وہ ہمیشہ سے بے حد بردبار، نہایت بخشنے والا ہے۔
En
ساتوں آسمان اور زمین اور جو لوگ ان میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں۔ اور (مخلوقات میں سے) کوئی چیز نہیں مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔ بےشک وہ بردبار (اور) غفار ہے
ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔ وه بڑا بردبار اور بخشنے واﻻ ہے
En
44۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب اس کی تسبیح [54] کرتے ہیں بلکہ کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو۔ لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں۔ وہ بڑا برد بار اور معاف کرنے والا ہے۔
[54] ﴿سَبَحَ﴾ کا لغوی مفہوم:۔
﴿سَبَحَ﴾ کے لغوی معنی کسی چیز کا ہوا یا پانی میں تیرنا اور تیزی سے گزر جانا ہے (مفردات القرآن) پھر اس لفظ کا استعمال کسی کام کو سرعت کے ساتھ انجام دینے پر بھی ہونے لگا جیسے ارشاد باری ہے: ﴿اِنَّلَكَفِيالنَّهَارِسَبْحًاطَوِيْلًا﴾[7: 72] (دن کے وقت تو آپ کو اور بہت سے شغل ہوتے ہیں) اور سبحان کا لفظ سبح کا مصدر ہے جیسے غفر سے غفران ہے اور اس میں مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اس کائنات میں لاکھوں اور کروڑوں سیارے فضا میں نہایت تیزی سے گردش کر رہے ہیں جن میں نہ کبھی لغزش پیدا ہوتی ہے نہ جھول اور نہ ہی تصادم یا ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان پر کنٹرول کرنے والی ہستی اپنی تقدیر، تدبیر اور انتظام میں نہایت محکم اور ہر قسم کی بے تدبیری اور عیب یا نقص سے پاک ہستی ہی ہو سکتی ہے اور کائنات کی جملہ اشیاء کا یہ عمل، جس کے تحت وہ مدبر ہستی کے مجوزہ قوانین کے تحت سرگرم عمل ہیں، ان کی تسبیح، فرمانبرداری یا عبادت کہلاتا ہے گویا کائنات کی جملہ اشیاء زبان حال یا اپنے عمل سے اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ ان کا انتظام کرنے والی ہستی ہر طرح کے عیوب اور نقائص سے پاک ہے۔ اور وہ صرف ایک ہی ہستی ہو سکتی ہے۔ یہ تو ہے ہر چیز کی عملی تسبیح۔
کائنات کی ہر چیز کی تسبیح کا مفہوم:۔
اور قولی یا زبانی تسبیح کی صورت یہ ہے کہ انسانوں، جنوں یا فرشتوں کی تسبیح زندگی کے تناسب کے لحاظ سے سب سے بالا و برتر، موثر اور قابل فہم ہوتی ہے۔ حیوانات کی اس سے کم اور جمادات کی اس سے کم، جن و انس کی تسبیح کی صورت چونکہ اختیاری ہے لہٰذا گاہے گاہے ہوتی ہے جبکہ باقی تمام اشیاء ہر وقت تسبیح میں مشغول رہتی ہیں اور جب کوئی چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے تو اس پر اللہ کی رحمت کا نزول بھی ہوتا ہے۔ جس مخلوق کی تسبیح جتنی واضح ہو گی، اتنا ہی زیادہ رحمت کا نزول ہو گا اور اس توجیہہ کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایک قبر پر ایک ٹہنی کی دو شاخیں بنا کر انھیں قبر میں گاڑ دیا اور فرمایا کہ جب تک یہ خشک نہ ہو جائیں امید ہے کہ ان پر عذاب کم رہے۔ [بخاری، کتاب الوضوء، باب من الکبائر، ان لایستتر من بولہ] یعنی ہری ٹہنی کی تسبیح سوکھی ٹہنی سے زیادہ موثر اور قابل فہم ہوتی ہے اسی لحاظ سے اس پر رحمت کا نزول سوکھی ٹہنی سے زیادہ ہو گا اور اس رحمت کے نزول کا مردہ کو یہ فائدہ ہو گا کہ عذاب قبر میں تخفیف ہو گی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔