ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 40

اَفَاَصۡفٰىکُمۡ رَبُّکُمۡ بِالۡبَنِیۡنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنَاثًا ؕ اِنَّکُمۡ لَتَقُوۡلُوۡنَ قَوۡلًا عَظِیۡمًا ﴿٪۴۰﴾
پھر کیا تمھارے رب نے تمھیں بیٹوں کے ساتھ چن لیا اور خود فرشتوں میں سے بیٹیاں بنا لی ہیں؟ بے شک تم یقینا ایک بہت بڑی بات کہہ رہے ہو۔ En
(مشرکو!) کیا تمہارے پروردگار نے تم کو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول بات) کہتے ہو
En
کیا بیٹوں کے لئے تو اللہ نے تمہیں چھانٹ لیا اور خود اپنے لئے فرشتوں کو لڑکیاں بنالیں؟ بےشک تم بہت بڑا بول بول رہے ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ کیا تمہارے پروردگار نے بیٹے دینے کو تو تمہیں چن لیا ہے اور خود فرشتوں کو (اپنی) بیٹیاں بنا لیا ہے۔ کتنی بڑی (گناہ کی) بات [50] ہے جو تم کہہ رہے ہو۔
[50] توحید کے بیان کے ساتھ ہی مشرکین مکہ کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ کے شریک بھی بناتے تھے تو اناث کو۔ جنہیں اپنے لیے قطعاً ناگوار سمجھتے تھے اور اسی طرح دوہرے جرم کے مرتکب ہوتے تھے۔ [تفصيل كے ليے سورة نحل آيت نمبر 57 كا حاشيه ملاحظه فرمايئے]