ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 37

وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَ لَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا ﴿۳۷﴾
اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، بے شک تو نہ کبھی زمین کو پھاڑے گا اور نہ کبھی لمبائی میں پہاڑوں تک پہنچے گا۔ En
اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں (کی چوٹی) تک پہنچ جائے گا
En
اور زمین میں اکڑ کر نہ چل کہ نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ لمبائی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

37۔ اور زمین میں اکڑ کر مت [47] چلو کیونکہ نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ بلندی میں پہاڑوں تک پہنچ سکتے ہو۔
[47] متکبرانہ چال سخت مذموم ہے اور اس اصل میں استثناء:۔
متکبرانہ چال اللہ تعالیٰ کو سخت ناگوار ہے اور جو انسان، اکڑ اکڑ کر، گال پھلا کر اور اور اپنے تہبند کو زمین پر گھسٹتے ہوئے چلتا ہے۔ اللہ ایسے انسان کو دنیا میں ضرور سزا دیتا ہے مثل مشہور ہے کہ ”غرور کا سر نیچا“ تو اس کا سر نیچا ہو ہی جاتا ہے۔ متکبر ہونا صرف اللہ کو سزاوار ہے اور کسی کو یہ صفت زیبا نہیں۔ انسان کی چال میں انکساری اور وقار ہونا چاہیے لیکن ایسی بھی نہ ہو کہ انسان حقیر اور ذلیل معلوم ہو بلکہ چال میں میانہ روی کی روش اختیار کرنا چاہیے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ [19: 31] یعنی اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور فرمایا: ﴿الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ هَوْنًا [63: 25] (جو لوگ زمین پر انکساری کے ساتھ چلتے ہیں) یہاں ﴿هَوْن کا لفظ فرمایا جس میں انکساری اور وقار دونوں شامل ہوتے ہیں۔ ﴿هُوْن نہیں فرمایا جس کا معنی ذلت اور حقارت ہوتا ہے۔ اس کلیہ میں بھی ایک استثناء کا مقام ہے اگر کفار کے سامنے مظاہرہ مقصود ہو تو اس وقت اکڑ کر چلنا ہی اللہ کو پسند ہے۔ جنگ احد میں سب صحابہ کے مقابلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ابو دجانہؓ کو عنایت فرمائی تو وہ کافروں کے سامنے اکڑ اکڑ کر چلنے لگے۔ یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چال اللہ کو پسند نہیں مگر اس وقت پسند ہے۔ عمرہ قضاء کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو رمل کا حکم دیا۔ اس سے بھی یہی مقصود تھا۔ فتح مکہ کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سب صحابہؓ نے کافروں کے سامنے ایسا ہی پر شکوہ مظاہرہ فرمایا۔