ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 35

وَ اَوۡفُوا الۡکَیۡلَ اِذَا کِلۡتُمۡ وَ زِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِیۡمِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا ﴿۳۵﴾
اور ماپ کو پورا کرو، جب ماپو اور سیدھی ترازو کے ساتھ وزن کرو۔ یہ بہترین ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت زیادہ اچھا ہے۔ En
اور جب (کوئی چیز) ناپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کر دو تو) ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے
En
اور جب ناپنے لگو تو بھر پور پیمانے سے ناپو اور سیدھی ترازو سے توﻻ کرو۔ یہی بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت اچھا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

35۔ اور جب تم ناپ کرو تو پورا پورا ناپو اور تولو تو سیدھی [44] ترازو سے تولو۔ یہ اچھا طریقہ ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی بہتر [45] ہے۔
[44] ماپ تول پورا کرنے سے انجام بہتر ہو گا:۔
ناپ اور تول میں کمی بیشی کرنا یعنی خود زیادہ لینا اور دوسرے کو کم دینا، ڈنڈی مار جانا اور کاروباری بد دیانتی کرنا اتنا بڑا جرم ہے جس کی وجہ سے شعیبؑ کی قوم پر عذاب نازل ہوا تھا اور جو شخص ایسے کام کرتا ہے اس کے رزق سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔
[45] ناپ اور تول پورا پورا دینے سے دنیا میں تو انجام اس لحاظ سے بہتر ہوتا ہے کہ ایسے شخص کی ساکھ قائم ہو جاتی ہے۔ اور اس کی تجارت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور اس کے رزق میں برکت ہوتی ہے۔ اور ایسے شخص کا اخروی انجام بہتر ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔