ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 104

وَّ قُلۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ لِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اسۡکُنُوا الۡاَرۡضَ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ جِئۡنَا بِکُمۡ لَفِیۡفًا ﴿۱۰۴﴾ؕ
اور ہم نے اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس سرزمین میں رہو، پھر جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تمھیں اکٹھا کر کے لے آئیں گے۔ En
اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو سہو۔ پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو جمع کرکے لے آئیں گے
En
اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اس سرزمین پر تم رہو سہو۔ ہاں جب آخرت کا وعده آئے گا ہم تم سب کو سمیٹ اور لپیٹ کر لے آئیں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

104۔ اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ اس سرزمین [123] میں آباد ہو جاؤ۔ پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آئے گا تو ہم تمہیں اکٹھا کر کے لے آئیں گے۔
[123] کفار مکہ اور فرعون کی کرتوتوں اور انجام میں مماثلت:۔
اگرچہ موسیٰؑ کو یہ حکم ہوا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے جا کر شام کا علاقہ فتح کریں اور اس میں آباد ہوں اور کچھ عرصہ بعد ایسا ہوا بھی تھا۔ تاہم اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اور فرعونیوں کی تباہی کے بعد بنی اسرائیل ہی کے کچھ لوگ مصر کے علاقے پر بھی قابض ہو گئے تھے اور اس مقام پر اس واقعہ کو مختصراً بیان کرنے کا مقصود یہ ہے کہ کفار مکہ بھی مسلمانوں پر ایسے ہی سختیاں کر رہے تھے جیسے آل فرعون بنی اسرائیل پر کرتے تھے لیکن انجام کار ہوا یہ کہ آل فرعون تو تباہ ہو گئے اور بنی اسرائیل ملک پر قابض ہو گئے تھے۔ اور اب چونکہ ان لوگوں نے بھی اپنے عز و جاہ کی خاطر اسلام کا نام و نشان مٹا دینے کا تہیہ کر رکھا ہے تو ان کا وہی حشر ہونے والا ہے جو آل فرعون کا ہوا تھا۔ یہ تو سزا دنیا میں ملے گی اور آخرت میں بھی ایسے لوگ ہمارے عذاب سے بچ کر نہیں جا سکتے۔ ہم ان سب کو اکٹھے کر کے اپنے حضور حاضر کر لیں گے پھر ان کے کرتوتوں کی انھیں پوری پوری سزا دیں گے۔