ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النحل (16) — آیت 74

فَلَا تَضۡرِبُوۡا لِلّٰہِ الۡاَمۡثَالَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷۴﴾
پس اللہ کے لیے مثالیں بیان نہ کرو۔ بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ En
تو (لوگو) خدا کے بارے میں (غلط) مثالیں نہ بناؤ۔ (صحیح مثالوں کا طریقہ) خدا ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
En
پس اللہ تعالیٰ کے لیے مثالیں مت بناؤ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

74۔ اللہ کے لئے مثالیں [73] نہ بیان کیا کرو۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
[73] زیادہ خداؤں کی ضرورت کا نظریہ:۔
چونکہ مشرکوں کا اللہ کی ذات کے متعلق تصور ہی غلط ہے اس لیے وہ اللہ کے متعلق جو مثال بھی چسپاں کرتے ہیں حقیقت کا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ وہ اللہ کو بھی دنیا کے بادشاہوں یا راجوں، مہاراجوں کی طرح سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ مخلوقات کی مشابہت سے پاک ہے اس لیے وہ اللہ کے متعلق ٹھیک مثال بیان کر ہی نہیں سکتے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کو اپنے وزیروں اور امیروں کی بات سننا پڑتی ہے۔ کیونکہ انھیں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں میرے خلاف نہ ہو جائیں اور بغاوت یا کوئی دوسرا فتنہ نہ کھڑا کر دیں۔ اسی طرح انبیاء، اولیاء، بزرگ، اوتار اور ٹھاکر اور ہمارے یہ معبود اللہ کی درگاہ میں ایسے دخیل ہیں کہ اللہ میاں کو ان کی سفارش ضرور سننا پڑتی ہے اور اگر قیامت ہوئی بھی تو یہ ہمیں اللہ سے بچا لیں گے۔ ان کا دوسرا تصور یا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بادشاہ اپنے سارے کام خود نہیں کر سکتے اور نہ سب لوگوں کی فریادیں سن سکتے ہیں۔ لہٰذا انھیں امیروں، وزیروں اور دوسرے بے شمار کارندوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح اللہ میاں کو اپنے مقربین کی ضرورت ہوتی ہے جو لوگوں کی فریادیں اس کے حضور پہنچا دیں اور پھر انہی کی وساطت سے فریادی کو کوئی جواب ملے۔ اسی طرح اگر اللہ سے مال و دولت یا اولاد یا کوئی دوسری بھلائی مانگنا ہو تو ان مقربین کا واسطہ ضروری ہے۔ یہی وہ گمراہ کن عقائد ہیں جو مشرکوں نے اپنی دنیوی اغراض کی بنا پر گھڑ رکھے ہیں۔ یہی عقائد شرک کی اکثر اقسام کی بنیاد ہیں۔ اور قرآن میں جا بجا ان کی تردید مذکور ہے۔ اور انتباہ یہ کیا گیا ہے کہ جب تم اللہ کی حقیقت کو جان ہی نہیں سکتے تو اس کے متعلق غلط تصورات مت قائم کیا کرو اور نہ ہی اس کی مثالیں دیا کرو۔