اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فوقیت بخشی ہے، پس وہ لوگ جنھیں فوقیت دی گئی ہے کسی صورت اپنا رزق ان (غلاموں) پر لوٹانے والے نہیں جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ ہیں کہ وہ اس میں برابر ہو جائیں، تو کیا وہ اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں۔
En
اور خدا نے رزق (ودولت) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے تو جن لوگوں کو فضیلت دی ہے وہ اپنا رزق اپنے مملوکوں کو تو دے ڈالنے والے ہیں نہیں کہ سب اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ نعمت الہیٰ کے منکر ہیں
اللہ تعالیٰ ہی نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر روزی میں زیادتی دے رکھی ہے، پس جنہیں زیادتی دی گئی ہے وه اپنی روزی اپنے ماتحت غلاموں کو نہیں دیتے کہ وه اور یہ اس میں برابر ہو جائیں، تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہو رہے ہیں؟
En
71۔ نیز اللہ نے تمہیں رزق کے معاملہ میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے۔ پھر جن لوگوں کو رزق زیادہ دیا گیا ہے وہ ایسے تو نہیں جو زائد رزق کو اپنے غلاموں کی طرف لوٹا دیں تاکہ آقا و غلام سب رزق کے معاملہ میں برابر ہو جائیں۔ کیا پھر وہ اللہ کی نعمتوں کا ہی انکار [70] کرتے ہیں
[70] شرک اللہ سے بے انصافی اور ناشکری ہے:۔
یہ خطاب مشرکوں سے ہے اور شرک کی تردید میں ایک عام فہم دلیل پیش کی گئی ہے یعنی تم میں سے ایک شخص صاحب مال و جائداد ہے اور اس کے کئی غلام بھی ہیں تو کیا وہ یہ گوارا کرے گا کہ اپنی ساری دولت اور جائداد اپنے غلاموں میں اس طرح تقسیم کر دے کہ اس کا اپنا حصہ بھی ہر غلام کے برابر ہو جائے؟ ظاہر ہے کہ کوئی مالک ایسا کام گوارا نہیں کر سکتا پھر اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ جب تم لوگ اپنے لیے ایسی برابری برداشت کرنے کو تیار نہیں تو کیا اللہ ایسی برابری برداشت کر سکتا ہے؟ جو ہر چیز کا مالک و مختار ہے اس نے تم کو یہ سب نعمتیں عطا فرمائیں۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ تم اسی کا شکریہ ادا کرتے اور اسی کی بندگی کرتے لیکن اس معاملہ میں تم لوگوں نے جو اللہ کے مملوک اور غلاموں کو اللہ کے ساتھ برابر کا شریک بنا دیا ہے تو کیا اس سے بڑھ کر بھی اللہ کے ساتھ بے انصافی، اس کی احسان ناشناسی اور اس کی نعمتوں کا انکار ہو سکتا ہے؟
مخلوق اور مملوک کبھی شریک نہیں بن سکتے:۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر کوئی مالک اپنے غلام کو کسی چیز کا مالک یا اس میں تصرف کا اختیار دے بھی دے۔ تو یہ سب کچھ عارضی طور پر ہو گا۔ حقیقتاً ان چیزوں کا مالک بھی اصل مالک ہی ہو گا۔ اسی لحاظ سے ہم کہتے ہیں کہ حقیقتاً ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور ہمارا کسی چیز کا مالک ہونا یا اس میں تصرف کا اختیار ہونا محض چند روزہ یا عارضی ہے اس سے ایک اہم نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مملوک ہونا اور شراکت دو چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں۔ یعنی جو غلام ہے وہ شریک نہیں بن سکتا۔ غلام کو مالک بنانے کی صرف یہ صورت ممکن ہے کہ اسے پہلے آزاد کر دیا جائے۔ اب وہ مالک تو بن جائے گا لیکن غلام نہ رہا۔ لامحالہ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ چونکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مخلوق و مملوک ہے لہٰذا وہ صفات الوہیت میں اس کی شریک نہیں بن سکتی۔
اشتراکیت کا رد:۔
بعض اشتراکیت پسند حضرات نے اس آیت کا غلط مطلب لے کر بڑا اوٹ پٹانگ سا نتیجہ اخذ کیا ہے ان حضرات کے نزدیک اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ”جو لوگ تم میں سے امیر ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اپنا مال و دولت اپنے غلاموں میں بانٹ کر سب برابر ہو جائیں اور اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ کی نعمت کے منکر قرار پاؤ گے“ اور اس طرح اشتراکیت یا کمیونزم کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اب ظاہر ہے کہ سیاق و سباق قطع نظر کرتے ہوئے درمیان میں سے ایک آیت لے کر اس سے اپنے نظریہ کے مطابق مطلب کشید کرنا بد ترین قسم کی تحریف معنوی ہے۔ اس آیت سے پہلے بھی توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کا بیان چل رہا ہے۔ اس آیت میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے اور بعد کی آیات میں بھی یہی مضمون آرہا ہے۔ لہٰذا درمیان میں اس آیت کو اس کے اصل مفہوم سے جدا کر کے دور حاضر کے ایک باطل فلسفہ معیشت پر چسپاں کرنا انتہائی غیر معقول بات ہے۔ پھر یہ معنی اس لحاظ سے بھی غلط ہیں کہ اس آیت میں غلاموں کا ذکر ہے غریب طبقہ کا ذکر نہیں۔ جسے اشتراکیت پسند اپنی مطلب برآری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔