ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النحل (16) — آیت 68

وَ اَوۡحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحۡلِ اَنِ اتَّخِذِیۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعۡرِشُوۡنَ ﴿ۙ۶۸﴾
اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ کچھ پہاڑوں میں سے گھر بنا اور کچھ درختوں میں سے اور کچھ اس میں سے جو لوگ چھپر بناتے ہیں۔ En
اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے ہیں گھر بنا
En
آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں درختوں اور لوگوں کی بنائی ہوئی اونچی اونچی ٹٹیوں میں اپنے گھر (چھتے) بنا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

68۔ نیز آپ کے پروردگار نے شہد کی مکھی کی طرف [65] وحی کی کہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور (انگور وغیرہ کی) بیلوں میں اپنا [66] گھر (چھتا) بنا
[65] نحل شہد کی مکھی کو کہتے ہیں جو عام مکھی یعنی ذباب سے بڑی ہوتی ہے اور اس سورۃ کا نام ﴿النحل﴾ اسی نسبت سے ہے کہ صرف اسی سورت میں نحل کا ذکر آیا ہے اور اس مکھی کی طرف وحی کرنے سے مراد فطری اشارہ یا تعلیم ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کی جبلت میں ودیعت کر رکھی ہے جیسے کہ بچہ پیدا ہوتے ہی ماں کی چھاتیوں کی طرف لپکتا ہے تاکہ وہاں سے اپنے لیے غذا حاصل کر سکے حالانکہ اس وقت اسے کسی بات کی سمجھ نہیں ہوتی۔
[66] یہ اسی فطری وحی کا اثر ہے کہ وہ اپنے لیے ایسا چھتا یا اپنا گھر بناتی ہے جسے انسان دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی ماہر انجینئر نے اس کی ڈیزائننگ کی ہے۔ اس چھتے کا ہر خانہ چھ پہلو والا یعنی مسدس ہوتا ہے جس کے تمام ضلعے مساوی لمبائی کے ہوتے ہیں اور اس طرح ایک دوسرے سے متصل یا جڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان میں کہیں خالی جگہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ انھیں خانوں میں مکھیاں شہد کا ذخیرہ کرتی ہیں اور بیرونی خانوں پر پہرہ دار مکھیاں ہوتی ہیں۔ جو اجنبی مکھیوں یا کیڑوں کو ان خانوں میں گھسنے نہیں دیتیں۔