ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النحل (16) — آیت 61

وَ لَوۡ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِظُلۡمِہِمۡ مَّا تَرَکَ عَلَیۡہَا مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّ لٰکِنۡ یُّؤَخِّرُہُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۶۱﴾
اور اگر اللہ لوگوںکو ان کے ظلم کی وجہ سے پکڑے تو اس کے اوپر کوئی چلنے والا نہ چھوڑے اور لیکن وہ انھیں ایک مقرر وقت تک ڈھیل دیتا ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں۔ En
اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں
En
اگر لوگوں کے گناه پر اللہ تعالیٰ ان کی گرفت کرتا تو روئے زمین پر ایک بھی جاندار باقی نہ رہتا، لیکن وه تو انہیں ایک وقت مقرر تک ڈھیل دیتا ہے، جب ان کا وه وقت آجاتا ہے تو وه ایک ساعت نہ پیچھے ره سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

61۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کی بنا پر پکڑنے لگتا تو زمین پر کوئی جاندار مخلوق باقی نہ رہ جاتی [58] لیکن وہ ایک معین عرصہ تک ڈھیل دیئے جاتا ہے پھر جب وہ مدت آجاتی ہے تو (اللہ کا عذاب ان سے) گھڑی بھر کے لئے بھی آگے پیچھے نہیں ہو سکتا
[58] ظالموں اور مشرکوں کو نیست و نابود کرنا اللہ کی مشیئت کے خلاف ہے:۔
عذاب کی جو بھی صورت ہو وہ بالآخر تمام مخلوق کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ ایک معمولی سی مثال یہ لیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ بارش برسانا بند کر دے۔ تو انسان کو پانی پینے کو ملے نہ حیوانات کو، نہ سبزی اور گھاس وغیرہ اگیں اور نہ پھلدار درخت اور چند ہی دنوں میں تمام مخلوق بھوک سے مر جائے اور دنیا ویران اور سنسان بن جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جتنے مشرک اور ظالم قسم کے انسان ہیں صرف انہی پر اللہ کا قہر نازل ہو اور باقی صرف نیک لوگ رہ جائیں۔ زمین میں ایسی آبادی بھی اللہ کی مشیئت نہیں اور ایسی مخلوق جو نیک ہی ہوں وہ تو پہلے سے ہی فرشتوں کی صورت میں موجود تھی اللہ نے تو اس دنیا کو امتحان گاہ بنانا اور اسے آباد رکھنا ہے اور اس کی واحد صورت یہی ہے کہ اس دنیا میں نیک و بد دونوں قسم کے لوگ موجود رہیں۔ معرکہ حق و باطل ہوتا رہے اور ان کی آزمائش کا عمل جاری رہے۔ لہٰذا مجرموں کو فوری طور پر سزا دے کر ہلاک کر دینا اللہ کے دستور اور حکمت کے خلاف ہے۔