ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النحل (16) — آیت 60

لِلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوۡءِ ۚ وَ لِلّٰہِ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰی ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۶۰﴾
ان لوگوں کا جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، بہت برا حال ہے اور اللہ کی سب سے اونچی صفت ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان ہی کے لیے بری باتیں (شایان) ہیں۔ اور خدا کو صفت اعلیٰ (زیب دیتی ہے) اور وہ غالب حکمت والا ہے
En
آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کی ہی بری مثال ہے، اللہ کے لیے تو بہت ہی بلند صفت ہے، وه بڑا ہی غالب اور باحکمت ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ بری مثال تو ان لوگوں کے لئے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اللہ کے لئے تو بلند تر [57] مثال ہے اور وہ ہر چیز پر غالب اور حکمت والا ہے
[57] یعنی ایسی گھٹیا صفات تو ان ظالموں کی ہی ہو سکتی ہیں جن کا روز آخرت پر ایمان ہی نہ ہو۔ نہ انھیں یہ معلوم ہے کہ ان کی ایسی ذلیل حرکتوں کی انھیں عبرتناک سزا ملنے والی ہے۔ رہی اللہ کی ذات تو وہ اولاد ہی سے بے نیاز ہے۔ اللہ کی ذات ان کے تصور سے بھی بلند تر اور ماورا ہے اور اس کے لیے ایسی مثالیں اور صفات ثابت کی جا سکتی ہیں جو اعلیٰ سے اعلیٰ اور ہر بلند چیز سے بلند تر ہوں۔