پھر بے شک تیرا رب ان لوگوں کے لیے جنھوں نے جہالت سے برے عمل کیے، پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح کرلی، بلاشبہ تیرا رب اس کے بعد یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
En
پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا۔ پھر اس کے بعد توبہ کی اور نیکوکار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور ان پر رحمت کرنے والا ہے
119۔ البتہ جن لوگوں نے لاعلمی کی بنا پر کوئی برا کام کیا پھر اس کے بعد توبہ کر لی [122] اور اپنی اصلاح کر لی تو اس کے بعد آپ کا پروردگار یقیناً معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے
[122] توبہ کے قبول ہونے کی شرائط:۔
توبہ کی قبولیت کی شرائط کا ذکر پہلے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 160 اور سورۃ انعام کی آیت نمبر 54 کے تحت گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ کہ انسان نے جو گناہ کیا ہو وہ بھول کر یا لاعلمی کی بنا پر کیا ہو۔ دوسرے یہ کہ جب اسے گناہ کا احساس ہو تو فوراً اللہ کے حضور توبہ کرے پھر اس گناہ کے آئندہ کبھی نہ کرنے کا عہد کرے پھر اگر اس جرم میں کسی کا حق غصب کیا ہو تو اس سے معاف کرائے یا اسے کسی نہ کسی طریقہ سے ادائیگی کرے تو امید ہے کہ اللہ اس کا گناہ معاف کر دے گا اور اگر گناہ ہی دیدہ دانستہ یا بد دیانتی کی بنا پر کرے کہ بعد میں توبہ تائب کر لیں گے یا گناہ سے توبہ کے بعد پھر اسی گناہ کا اعادہ کرتا جائے یا اگر کسی کا حق اس کے ذمہ واجب الادا ہو اور نہ وہ اس سے معاف کرائے اور نہ ہی ادائیگی کی کوشش کرے تو ایسی صورت میں اس کی توبہ قبول ہونے کی کم ہی توقع ہو سکتی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔