ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحجر (15) — آیت 88

لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡہُمۡ وَ لَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡہِمۡ وَ اخۡفِضۡ جَنَاحَکَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۸﴾
اپنی آنکھیں اس چیز کی طرف ہرگز نہ اٹھا جس کے ساتھ ہم نے ان کے مختلف قسم کے لوگوں کو فائدہ دیا ہے اور نہ ان پر غم کر اور اپنا بازو مومنوں کے لیے جھکا دے۔ En
اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا
En
آپ ہر گز اپنی نظریں اس چیز کی طرف نہ دوڑائیں، جس سے ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو بہره مند کر رکھا ہے، نہ ان پر آپ افسوس کریں اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

88۔ لہٰذا ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو جو سامان حیات دے رکھا ہے ادھر نظر اٹھا کر [48] بھی نہ دیکھیں اور نہ ہی ان کے لئے غمزدہ ہوں اور ایمان لانے والوں سے تواضع سے پیش آئیے
[48] مسلمانوں اور قریشیوں کی معاشی حالت کا تقابل:۔
جب ہم نے آپ کو قرآن عظیم جیسی نعمت عطا فرما دی تو پھر کافروں کو دی ہوئی ناپائیدار اور فانی نعمتوں کی طرف توجہ نہ کرنا چاہیے۔ جب یہ ہدایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور صحابہ کرامؓ کو دی گئی اس وقت صورت حال یہ تھی کہ رسالت کی ذمہ داریوں کی بنا پر آپ سے تجارت کا شغل بھی چھوٹ چکا تھا اور سیدہ خدیجہؓ والا سرمایہ بھی ختم ہو رہا تھا۔ اور قریش مکہ کے معاشرتی بائیکاٹ کی وجہ سے جو چند جوان صحابہ کاروبار یا دوسرے کام کاج کرتے تھے وہ بھی چھوٹ چکے تھے۔ ویسے بھی کچھ صحابہ غلام اور کچھ آزاد کردہ غلام تھے۔ غرضیکہ مسلمانوں پر یہ سخت تنگدستی کا دور تھا۔ دوسری طرف قریش مکہ خاصے مالدار تھے۔ تجارت کرتے تھے اور ٹھاٹھ باٹھ سے رہتے تھے۔ ایسے ہی حالات میں مسلمانوں کو تسلی کے طور پر ایسی ہدایات دی جا رہی تھیں۔