ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الحجر (15) — آیت 57

قَالَ فَمَا خَطۡبُکُمۡ اَیُّہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۵۷﴾
اس نے کہا تو اے بھیجے ہوؤ! تمھارا معاملہ کیا ہے؟ En
پھر کہنے لگے کہ فرشتو! تمہیں (اور) کیا کام ہے
En
پوچھا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو!) تمہارا ایسا کیا اہم کام ہے؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

57۔ پھر ان سے پوچھا:“ اے اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو! تمہارا کیا معاملہ [31] ہے؟“
[31] سیدنا ابراہیمؑ کے ڈرنے کی وجہ:۔
ان فرشتوں کی آمد سے سیدنا ابراہیمؑ سمجھ گئے کہ یہ کسی خاص مہم پر آئے ہیں۔ ورنہ لڑکے کی خوشخبری دینے کے لیے تو ایک فرشتہ بھی کافی تھا نیز یہ کہ کئی فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا غیر معمولی حالات میں ہی ہوا کرتا ہے۔ لہٰذا آپؑ نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ تمہاری اس طرح آمد کی اصل غرض و غایت کیا ہے؟ واضح رہے کہ قرآن نے یہاں خطب کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور یہ لفظ کسی ناگوار صورت حال کے لیے آتا ہے گویا آپ ان فرشتوں کی آمد سے فی الواقع ڈر رہے تھے۔ پھر جب فرشتوں نے بتایا کہ وہ قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں تو آپؑ کا ڈر جاتا رہا۔