ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 26

وَ مَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیۡثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیۡثَۃِۣ اجۡتُثَّتۡ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَہَا مِنۡ قَرَارٍ ﴿۲۶﴾
اور گندی بات کی مثال ایک گندے پودے کی طرح ہے، جو زمین کے اوپر سے اکھاڑ لیا گیا، اس کے لیے کچھ بھی قرار نہیں۔ En
اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے گا اس کو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں
En
اور ناپاک بات کی مثال گندے درخت جیسی ہے جو زمین کے کچھ ہی اوپر سے اکھاڑ لیا گیا۔ اسے کچھ ﺛبات تو ہے نہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ اور گندے کلمہ (شرک) کی مثال ایک خراب درخت کی سی ہے جسے زمین کی سطح [33] سے ہی اکھاڑ پھینکا جائے اور اسے کچھ استحکام نہ ہو
[33] خلافت اور دوسرے نظام ہائے حیات:۔
کلمہ طیبہ کے مقابلہ میں کلمہ خبیثہ (گندی بات) یعنی شرک و کفر کی مثال ایسے پودے سے دی گئی ہے جس کی سب صفات شجرہ طیبہ کے برعکس ہیں اس کی جڑ زمین کے اندر گہرائی تک نہیں جاتی بلکہ اوپر ہی اوپر زمین کے قریب ہی رہتی ہے کہ ہوا کا ایک تیز جھونکا آئے تو اسے بیخ و بن سے اکھاڑ کر پرے پھینک دے یہ مثال ہر باطل بات اور باطل نظام پر صادق آتی ہے۔ ہمارے ہاں جو مثل مشہور ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، وہ اسی مضمون کا مصداق ہے۔ حدیث کی رو سے شجرہ خبیثہ سے مراد اندرائن کا پودہ ہے۔ (پنجابی تمہ) جس کا پھل سخت کڑوا ہوتا ہے یعنی جہاں بھی باطل نظام حیات رائج ہو گا۔ کڑوے برگ و بار ہی لائے گا۔ معاشرہ میں بدامنی، رشوت ایک دوسرے کے حقوق کا غصب کرنا، فساد، جان و مال یا آبرو وغیرہ کا محفوظ نہ رہنا۔ غرض کہ ایسے معاشرہ میں عوام کی بے چینی اور اضطراب بڑھتا جاتا ہے اور کئی طرح کے مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اگر ان کا کوئی علاج سوچا جائے تو یہ مسائل اور پیچیدہ ہوتے اور بڑھتے جاتے ہیں کیونکہ اصل کا علاج تو کیا نہیں جاتا، ساری توجہ بس علامات پر ہی ہوتی ہے۔ اسلامی نظام حیات صرف ایک ہی طرز پر ہوتا ہے جسے خلافت بھی کہہ سکتے ہیں جبکہ باطل نظام لاتعداد ہو سکتے ہیں جو آئے دن بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں حتیٰ کہ ان کا نام تک صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے اور ایسے نظام ہر دور میں مختلف اور ایک سے زیادہ بھی رہے ہیں اور آج بھی پائے جاتے ہیں اس کی وجہ صرف یہی ہوتی ہے کہ ان کی بنیاد باطل یا شجرہ خبیثہ پر ہوتی ہے اور باطل کو کبھی استحکام نصیب نہیں ہوتا اور جب تک یہ قائم رہے اس کے برگ و بار کڑوے ہی ہوتے ہیں۔