25۔ وہ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر آن پھل دے [32] رہا ہے۔ اللہ لوگوں کے لئے مثالیں اس لیے بیان کرتا ہے کہ وہ سبق حاصل کریں
[32] کلمہ طیبہ کے ثمرات:۔
یعنی جس کی کوئی فصل پھل سے خالی نہیں جاتی اور اس مثال کا مطلب یہ ہے کہ جب کلمہ توحید کسی مومن کے دل میں رچ بس جاتا ہے اور اس میں اس کی جڑ پیوست ہوتی ہے اور وہ اپنی پوری زندگی اسی کلمہ کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیتا ہے تو اس سے جو اعمال صالحہ صادر ہوتے ہیں۔ اس کا فائدہ صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ آس پاس کا معاشرہ بھی ان سے فیضیاب ہوتا ہے اور ہر آن ہوتا رہتا ہے۔ پھر یہی اعمال صالحہ آسمان کی بلندیوں تک جا پہنچتے ہیں۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ﴿اِلَيْهِيَصْعَدُالْكَلِمُالطَّيِّبُوَالْعَمَلُالصَّالِحُيَرْفَعُهٗ﴾[10: 35] پاکیزہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھتا ہے اور عمل صالح اسے چڑھانے کا سبب بنتا ہے۔ اور اللہ کی رحمت اور برکات کے نزول کا سبب بنتے ہیں اور اگر اسی کلمہ طیبہ پر مبنی کوئی معاشرہ اپنا نظریہ حیات اسی بنیاد پر استوار کر لے تو اس کے ثمرات و برکات میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ کلمہ طیبہ کی جڑ اس لحاظ سے مضبوط ہے کہ انسانی زندگی میں اس کا آغاز سیدنا آدمؑ سے ہوا اور تا قیامت یہ کلمہ برقرار رہے گا۔ آندھیوں کے جھکڑ یا باطل کے بلا خیز طوفان اسے متزلزل نہیں کر سکے۔ اور باطنی لحاظ سے اس کلمہ کا مستقر مومن کا دل ہے اور مومن کے دل میں اس کلمہ کی جڑیں اس قدر راسخ ہوتی ہیں کہ زمانہ بھر کی مشکلات اور مصائب اسے اس عقیدہ سے متزلزل نہیں کر سکتے۔ پھر یہی کلمہ طیبہ کا مومن کے دل میں پڑا ہوا بیج جب ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کے برگ و بار سب کے سب خیر اور بھلائی کا سرچشمہ بن جاتے ہیں اور اس سے بنی نوع انسان تو درکنار اللہ کی دوسری مخلوق بھی اس کی برکتوں سے فیض یاب ہوتی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔