ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 17

یَّتَجَرَّعُہٗ وَ لَا یَکَادُ یُسِیۡغُہٗ وَ یَاۡتِیۡہِ الۡمَوۡتُ مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ وَّ مَا ہُوَ بِمَیِّتٍ ؕ وَ مِنۡ وَّرَآئِہٖ عَذَابٌ غَلِیۡظٌ ﴿۱۷﴾
وہ اسے بمشکل گھونٹ گھونٹ پیے گا اور قریب نہ ہوگا کہ اسے حلق سے اتارے اور اس کے پاس موت ہر جگہ سے آئے گی، حالانکہ وہ کسی صورت مرنے والا نہیں اور اس کے پیچھے ایک بہت سخت عذاب ہے۔ En
وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پیئے گا اور گلے سے نہیں اتار سکے گا اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا۔ اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا
En
جسے بمشکل گھونٹ گھونٹ پئے گا۔ پھر بھی اسے گلے سے اتار نہ سکے گا اور اسے ہر جگہ سے موت آتی دکھائی دے گی لیکن وه مرنے واﻻ نہیں۔ پھر اس کے پیچھے بھی سخت عذاب ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ جسے وہ گھونٹ گھونٹ پئے گا اور اسے بمشکل ہی حلق سے اتار سکے گا موت اسے ہر طرف سے آئے گی مگر وہ مرے [20] گا نہیں اور اس سے آگے اور سخت عذاب ہو گا
[20] یہ سزا تو دنیا میں ملے گی اور آخرت میں انھیں جہنم میں آتش دوزخ کے علاوہ کئی طرح کی اضافی سزاؤں سے بھی دوچار ہونا پڑے گا۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ گرمی کی شدت کی وجہ سے سخت قسم کی پیاس محسوس کریں گے تو پانی کے لیے فریاد کریں گے مگر پانی کے بجائے انھیں رستے ہوئے زخموں کا دھوون پینے کو دیا جائے گا اور اس کے پینے پر مجبور کیا جائے گا وہ بھی پیاس کی شدت کی وجہ سے اسے پینے پر مجبور ہوں گے۔ لیکن اس کی بدبو، اس کی رنگت اور قوام سے کراہت کی وجہ سے حلق سے بمشکل ہی نیچے اترے گا لہٰذا وہ گھونٹ گھونٹ کر کے پئیں گے۔ وہ موت کی آرزو کریں گے کہ ایسی تکلیف دہ زندگی سے تو موت ہی اچھی ہے لیکن اخروی زندگی میں موت نام کی کوئی چیز نہ ہو گی۔ اس زندگی میں موت سے کسی کو چھٹکارا نہیں حالانکہ ہر ایک کو زندہ رہنے کی ہوس ہوتی ہے۔ اس زندگی میں اہل دوزخ مرنا چاہیں گے تو مر بھی نہ سکیں گے اور ان پر عذاب سخت سے سخت تر کیا جاتا رہے گا۔ اس دنیا میں موت ایک اضطراری امر ہے۔ آخرت میں زندگی اضطراری امر ہو گا۔