ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 15

وَ اسۡتَفۡتَحُوۡا وَ خَابَ کُلُّ جَبَّارٍ عَنِیۡدٍ ﴿ۙ۱۵﴾
اور انھوں نے فیصلہ مانگا اور ہر سرکش، سخت عناد رکھنے والا نامراد ہوا۔ En
اور پیغمبروں نے (خدا سے اپنی) فتح چاہی تو ہر سرکش ضدی نامراد رہ گیا
En
اور انہوں نے فیصلہ طلب کیا اور تمام سرکش ضدی لوگ نامراد ہوگئے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ رسولوں نے فتح کی دعا [19] مانگی تھی اور (اس کے نتیجہ میں) ہر جابر دشمن نامراد ہو گیا
[19] یعنی ایک طرف تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے فتح و نصرت کے لیے دعا مانگ رہے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف مخالفین یہ مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب کیوں نہیں لے آتے جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے رہتے ہو۔ اس وقت اللہ رسولوں کی مدد کرتا ہے اور سرکش معاندین اور ہٹ دھرم لوگوں کا سر کچل دیتا ہے۔