8۔ اللہ تو وہ ہے کہ ہر ایک مادہ جو کچھ اپنے پیٹ میں اٹھائے ہوئے [13] ہے اسے جانتا ہے اور جو کچھ ان کے پیٹوں میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے وہ اسے بھی جانتا ہے اور اس کے ہاں ہر چیز کی ایک مقدار مقرر ہے
[13] اللہ کے علم کی وسعت:۔
یعنی ان لوگوں کی سرشت کو خوب جانتا ہے اور اس وقت سے جانتا ہے جب یہ اپنی ماؤں کے پیٹوں میں تھے۔ اس کے علم کی وسعت کا یہ حال ہے کہ وہ یہ جانتا ہے کہ ہر مادہ کے پیٹ میں نطفہ پر کیا کچھ تغیرات واقع ہوتے ہیں۔ اس سے شکل و صورت کیونکر بنتی ہے۔ نیز یہ کہ پیٹ میں ایک بچہ ہے یا زیادہ ہیں بچہ تندرست پیدا ہو گا یا وہ اندھا یا لنگڑا اور اپاہج پیدا ہو گا۔ لمبے قد کا ہو گا یا پست قد، ناقص العقل ہو گا یا ذہین و نیک بخت ہو گا یا بدبخت، ضدی اور سرکش ہو گا یا حق کو قبول کرنے والا ہو گا۔ اس کی استعداد کار کتنی ہو گی۔ کیونکہ ہر چیز کے لیے اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔