ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الرعد (13) — آیت 39

یَمۡحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَ یُثۡبِتُ ۚۖ وَ عِنۡدَہٗۤ اُمُّ الۡکِتٰبِ ﴿۳۹﴾
اللہ مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے اور ثابت رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔ En
خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے
En
اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ﺛابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ اللہ جو چاہے (اس سے) مٹا دیتا ہے اور جو چاہے برقرار رکھتا ہے اور اصل کتاب [51] اسی کے پاس ہے
[51] ہر دور کے لئے الگ شریعت:۔
یعنی ہر نبی ایک ہی جیسے دین کے اصول پیش کرتا رہا ہے۔ مگر ان کی شریعتوں میں ان کے دور کے تقاضوں کے مطابق فرق رہا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ موسوی شریعت میں قصاص کا حکم تھا۔ عفو و درگزر کا نہ تھا۔ پھر عیسوی شریعت میں قصاص کے حکم کو پس پشت ڈال دیا گیا اور سارا زور عفو و درگزر پر دیا گیا اور شریعت محمدی میں پھر سے قصاص کا حکم بحال کر دیا گیا مگر افضلیت عفو و درگز کو ہی دی گئی احکام میں اس قسم کا رد و بدل اس دور کے لوگوں کی طبیعتوں کی اصلاح کے لیے کیا گیا۔ اللہ نے جس حکم کو چاہا سابقہ شریعتوں سے بحال رکھا اور جسے چاہا منسوخ کر کے نئی قسم کے احکام دے دیئے اور یہ سب کچھ اللہ کے علم ازلی محیط کے مطابق ہوتا ہے جسے ام الکتاب یا لوح محفوظ کہا گیا ہے۔