ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الرعد (13) — آیت 12

ہُوَ الَّذِیۡ یُرِیۡکُمُ الۡبَرۡقَ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنۡشِیُٔ السَّحَابَ الثِّقَالَ ﴿ۚ۱۲﴾
وہی ہے جو تمھیں بجلی دکھاتا ہے، ڈرانے اور امید دلانے کے لیے اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔ En
اور وہی تو ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے لیے بجلی دکھاتا اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے
En
وه اللہ ہی ہے جو تمہیں بجلی کی چمک ڈرانے اور امید دﻻنے کے لئے دکھاتا ہے اور بھاری بادلوں کو پیدا کرتا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ وہی تو ہے جو تمہیں بجلی دکھاتا ہے جس سے تم ڈرتے بھی ہو اور امید بھی رکھتے ہو اور وہی (پانی سے) بوجھل بادلوں [19] کو اٹھاتا ہے
[19] پانی سے لدے ہوئے بادلوں کے وزن کا اندازہ کچھ اس بارش سے اور کچھ اس رقبہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ جہاں یہ بادل برستا ہے۔ ہوا جو ایک ہلکے سے کاغذ کا بھی بوجھ برداشت نہیں کرتی اور وہ زمین پر گر پڑتا ہے۔ کروڑوں ٹن پانی والے بادلوں کے بوجھ کو اس طرح اپنے دوش پر اٹھائے پھرتی ہے۔ جس کا تصور کرنے سے ہی اللہ کی بے پناہ قدرت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ یہ پانی سے بھرے ہوئے بادل کبھی تہ بہ تہ بنتے جاتے ہیں۔ اس پانی میں کہربائی قوت موجود ہوتی ہے۔ کسی تہ میں مثبت بجلی ہوتی ہے، کسی میں منفی۔ جب یہ بادل ملتے ہیں تو بجلی کے جذب و انجذاب سے زبردست دھماکہ اور آتشیں شعلہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی آتشیں شعلہ کو برق یا چمکنے والی بجلی کہتے ہیں اور اس دھماکہ کو رعد یا کڑک کہتے ہیں۔ برق تو فوراً اہل زمین کو نظر آ جاتی ہے۔ لیکن رعد یا کڑک چند لمحے بعد سنائی دیتی ہے۔ کیونکہ آواز کی رفتار روشنی کی رفتار کی نسبت بہت کم ہوتی ہے۔ اکثر تو یہ بجلی انھیں بادلوں کے پانی میں جذب ہو جاتی ہے اور جب یہ زیادہ مقدار میں پیدا ہو یا کسی دوسری وجہ سے زمین پر گرتی ہے۔ ایسی گرنے والی بجلی کو صاعقہ (ج۔ صواعق) کہتے ہیں۔ لہٰذا انسان جب بجلی چمکتے دیکھتا ہے تو اسے امید تو یہ ہوتی ہے کہ باران رحمت برسے گی اور خوف یہ کہ مہیب کڑک کہیں اسے بہرا نہ کر دے۔ اسی لیے سخت کڑک میں انسان اپنی انگلیاں کانوں میں ٹھوس لیتا ہے اور یہ خطرہ بھی ہوتا ہے کہ کہیں بجلی گر کر تباہی کا باعث نہ بن جائے۔ یہ تو وہ توجیہ ہے جو ہمارے ماہرین طبیعیات اور سائنس دان پیش کرتے ہیں۔ لیکن اسلامی عقیدہ کی رو سے یہ رعد اور برق وغیرہ طبعی قوانین کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ بلکہ کائنات کے انتظام پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے۔ وہی مدبرات امر ہیں۔ بادل اور بارش پر میکائیل فرشتہ مقرر ہے۔ وہی بادلوں کو ہانکتا اور چلاتا ہے اور اس طرف ہانکتا ہے۔ جدھر اللہ کا حکم ہو۔ پھر بارش اسی مقام پر برستی ہے۔ جہاں اللہ کی مرضی ہو۔ اسی فرشتہ کے کوڑا مارنے سے رعد اور برق پیدا ہوتی ہے اور گرنے والی بجلی بھی صرف وہاں گرتی ہے جہاں اس فرشتہ کو اللہ کا حکم ہوتا ہے اور اللہ کو اس کا تباہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ چنانچہ: سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گرج کی آواز سنتے تو فرماتے: «اللہم لا تقتلنا بغضبك ولا تهلكنا بعذابك وعا فنا قبل ذٰلك» [ترمذي، ابواب الدعوات باب مايقول اذا سمع الرعد]
بادلوں کے برسنے، ان کی روانی اور ان کے سمت اختیار کرنے پر اللہ تعالیٰ کا جس قدر کنٹرول ہے۔ اس کا اندازہ درج ذیل حدیث سے ہوتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی جنگل میں جا رہا تھا۔ اس نے بادل سے ایک آواز سنی جیسے کوئی کہہ رہا ہے کہ جا کر فلاں شخص کے باغ کو سیراب کرو۔ وہ بادل ایک طرف چلا۔ پھر وہاں ایک پتھریلی زمین پر برسا۔ ایک نالی نے وہ سب پانی جمع کیا۔ وہ آدمی اس پانی کے پیچھے پیچھے چلا۔ آگے چل کر اس نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے باغ کو سیراب کرنے کے لیے بیلچہ سے اس کی نالی درست کر رہا ہے۔ نالی درست ہوئی تھی کہ بارش کا یہ پانی وہاں پہنچ گیا۔ پیچھے پیچھے چلنے والایہ شخص اللہ کی قدرت پر بہت متعجب ہوا اور باغ والے سے پوچھا اللہ کے بندے! تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے وہی نام بتلایا جو اس نے بادل سے سنا تھا۔ اب باغ والے نے اس شخص سے پوچھا: اللہ کے بندے! تم میرا نام کیوں پوچھتے ہو۔ وہ کہنے لگا: میں نے اس بادل سے جس کے پانی سے تو اپنا کھیت سیراب کر رہا ہے۔ یہ آواز سنی تھی کہ جا کر فلاں شخص کے باغ کو سیراب کرو۔ اس میں تمہارا ہی نام لیا گیا تھا۔ اب تم یہ بتلاؤ کہ تمہارا وہ کون سا عمل ہے جس کی وجہ سے اللہ تم پر اتنا مہربان ہے؟ باغ والا کہنے لگا: ”اب جبکہ تم نے یہ بات سن ہی لی ہے تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں۔ اس باغ سے جو پیداوار ہوتی ہے اس کا ایک تہائی حصہ صدقہ کر دیتا ہوں اور ایک تہائی میں اور میرے اہل و عیال کھاتے ہیں اور ایک تہائی اسی باغ میں لوٹا دیتا ہوں“ (یعنی اگلی فصل کے خرچ اخراجات پر صرف کرتا ہوں) [مسلم، كتاب الزهد، باب فضل الانفاق على المساكين وابن السبيل]
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشرکین بھی تو یہی کہتے ہیں کہ بادلوں یا بارش کا مالک فلاں فرشتہ یا دیوتا ہے اور موت کا فلاں اور فلاں کام کا فلاں تو پھر ان میں اور مسلمانوں کے عقائد میں فرق کیا ہوا؟ تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مشرکوں کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ فلاں فرشتہ یا فلاں دیوتا بادل یا بارش کا دیوتا ہے۔ جہاں چاہے بارش برسائے۔ اسی لحاظ سے اس کی عبادت کر کے اسے خوش رکھنے یا اس کے غضب سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان فرشتوں یا دیوتاؤں کو تدبیر امور میں اللہ کا شریک بنایا جاتا ہے لیکن اسلامی عقیدہ کی رو سے فرشتے مالک و مختار نہیں بلکہ اللہ کے فرمانبردار غلام اور مامور ہیں۔ اسی لیے ان آیات میں اللہ نے واضح طور پر فرما دیا کہ کڑک بھی اور فرشتے بھی دونوں اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتے ہیں اور یہ عین بندگی اور غلامی ہے۔ جیسے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہے۔