ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يوسف (12) — آیت 92

قَالَ لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ ؕ یَغۡفِرُ اللّٰہُ لَکُمۡ ۫ وَ ہُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۹۲﴾
اس نے کہا آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمھیں بخشے اور وہ رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ En
(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے
En
جواب دیا آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اللہ تمہیں بخشے، وه سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

92۔ یوسف نے کہا: ”آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ اللہ تمہیں [89] معاف کرے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
[89] سیدنا یوسفؑ کا بھائیوں کو فراخدلی سے معاف کر دینا:۔
سیدنا یوسفؑ نے ان کے اس اندیشہ کو بھانپ لیا اور انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا جو ہو چکا سو ہو چکا۔ آج تم پر کوئی گرفت نہیں، کوئی سرزنش نہیں اور آئندہ میں تمہاری ایسی تقصیر کا ذکر بھی نہ کروں گا۔ میں نے سب کچھ تمہیں معاف کیا اور اللہ سے دست بدعا ہوں کہ وہ بھی تمہیں معاف فرما دے اور مجھے قوی امید ہے کہ وہ ضرور تمہیں معاف فرما دے گا، کیونکہ وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔