ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يوسف (12) — آیت 91

قَالُوۡا تَاللّٰہِ لَقَدۡ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیۡنَا وَ اِنۡ کُنَّا لَخٰطِئِیۡنَ ﴿۹۱﴾
انھوں نے کہا اللہ کی قسم! بلاشبہ یقینا اللہ نے تجھے ہم پر فوقیت دی ہے اور بلاشبہ ہم واقعی خطا کار تھے۔ En
وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے
En
انہوں نے کہا اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے تجھے ہم پر برتری دی ہے اور یہ بھی بالکل سچ ہے کہ ہم خطا کار تھے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

91۔ وہ کہنے لگے: ”اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی ہے۔ اور ہم ہی خطا کار [88] تھے“
[88] سیدنا یوسفؑ کے اس جواب پر ان کے سارے کارنامے ان کی آنکھوں کے سامنے پھر گئے اور برملا اعتراف کرنے لگے بیشک غلط کار ہم ہی تھے اور آپ اسی عزت کے مستحق تھے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے پھر اس خیال سے کہ اگرچہ شاہ مصر ان کا بھائی ہے وہ اس وقت بادشاہ ہے۔ ممکن ہے ہمیں سابقہ خطاؤں پر مؤاخذہ کرے۔ لہٰذا دل ہی دل میں کچھ ڈر بھی رہے تھے۔