انھوں نے کہا کیا یقینا واقعی تو ہی یوسف ہے؟ کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، یقینا اللہ نے ہم پر احسان فرمایا ہے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو ڈرے اور صبر کرے تو بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
En
وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
انہوں نے کہا کیا (واقعی) تو ہی یوسف (علیہ السلام) ہے۔ جواب دیا کہ ہاں میں یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر فضل وکرم کیا، بات یہ ہے کہ جو بھی پرہیز گاری اور صبر کرے تو اللہ تعالیٰ کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں کرتا
En
90۔ وہ (چونک کر) بول اٹھے: کیا تم ہی [87] یوسف ہو؟“ یوسف نے کہا: ”ہاں! میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی (بنیامین) ہے۔ اللہ نے ہم پر بہت بڑا احسان فرمایا: کیونکہ جو کوئی اس سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا“
[87] بھائیوں کا چونک اٹھنا اور اظہار ندامت:۔
شاہ مصر کے اس سوال پر وہ ایک دم چونک اٹھے کہ اسے ان باتوں کی کیسے خبر ہو گئی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ شاہ مصر یوسف (علیہ السلام) ہی ہو؟ پھر اپنی اس حیرت و استعجاب کو دور کرنے کے لیے شاہ مصر سے سوال کیا: ” کیا آپ یوسفؑ ہی تو نہیں؟“ شاہ مصر نے جواب دیا: ”ہاں میں یوسف ہی ہوں اور جسے میں نے پچھلی مرتبہ روک لیا تھا وہ میرا چھوٹا بھائی بن یمین ہے، جو اب میرے پاس ہے۔ دیکھ لو اللہ نے ہم پر کیسی رحمت فرمائی اور ہم دونوں بھائیوں کو طویل جدائی کے بعد ملا دیا۔ اور ذلت کو عزت سے، تکلیف کو راحت سے، اور تنگی کو آرام و سکون سے بدل دیا۔ جس بھائی کو تم نے کنویں میں ڈال دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آج اسے پورے ملک مصر کی حکومت عطا فرما دی ہے اور اللہ صبر کرنے والوں اور اس سے ڈرنے والوں کو ایسے ہی اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔