ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يوسف (12) — آیت 89

قَالَ ہَلۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا فَعَلۡتُمۡ بِیُوۡسُفَ وَ اَخِیۡہِ اِذۡ اَنۡتُمۡ جٰہِلُوۡنَ ﴿۸۹﴾
اس نے کہا کیا تم نے جانا کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا، جب تم نادان تھے؟ En
(یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا
En
یوسف نے کہا جانتے بھی ہو کہ تم نے یوسف اوراس کے بھائی کے ساتھ اپنی نادانی کی حالت میں کیا کیا؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

89۔ یوسف نے ان سے پوچھا: پتا ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا جبکہ تم نادان [86] تھے؟“
[86] سیدنا یوسف کا اپنا آپ جتلا دینا:۔
اپنے بھائیوں اور گھر والوں کی یہ داستان غم ان الفاظ میں سن کر سیدنا یوسفؑ اب زیادہ دیر حالات پر پردہ ڈالے رکھنا برداشت نہ کر سکے۔ دل بھر آیا اور ان کی اسی التجا کے جواب میں ان سے یہ پوچھا: ”کچھ وہ واقعہ بھی یاد ہے جو سلوک تم نے اپنے بھائی یوسفؑ سے کیا تھا۔ پھر اس کے بعد اپنے اس چھوٹے بھائی بن یمین سے کرتے رہے ہو؟“ اس سوال میں سیدنا یوسفؑ نے پیرایہ بھی ایسا اختیار کیا جس سے انھیں مزید ندامت نہ ہو یعنی جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ نا سمجھی یا بے وقوفی کی بنا پر کرتے رہے ہو۔