72۔ وہ بولے: ”بادشاہ کا (پانی پینے کا) پیالہ ہمیں نہیں مل رہا۔ جو شخص وہ لا کر دے اسے ایک بار شتر انعام ملے گا [69] اور میں اس کا ضامن ہوں“
[69] شاہ مصر کے پیالہ کی چوری:۔
سیدنا یوسفؑ نے اپنے بھائی بن یمین کو اپنے ہاں روک لینے کی یہ تدبیر سوچی کہ اس کے سامان میں یعنی غلہ میں اپنا مرصع پانی پینے کا پیالہ بھی رکھ دیا اور اس تدبیر کی آپ نے اپنے بھائی کو بھی خبر دے دی تاکہ وہ کسی موقع پر گھبراہٹ کا شکار نہ ہو جائے۔ چنانچہ جب برادران یوسف کا سامان تیار کیا جا رہا تھا تو آپ نے چپکے سے اپنا مرصع پانی پینے کا پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا اور سامان تیار کر کے انھیں شہر مصر سے روانہ کر دیا گیا۔ جب یہ لوگ ذرا آگے نکل آئے تو چند آدمی ان کے پیچھے تیزی سے آرہے تھے۔ ان میں سے ایک نے بلند آواز سے انھیں پکارا اور کہا: ذرا ٹھہر جاؤ، تم تو چور معلوم ہوتے ہو، برادران یوسف نے مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھا کہ چند آدمی ان کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ان سے پوچھا کہ تمہارا کیا سامان چوری ہوا ہے؟ تعاقب کرنے والوں میں سے ایک شخص بولا کہ بادشاہ کا پانی پینے کا مرصع پیالہ گم ہو گیا ہے۔ اس کی ہر جگہ تلاش کی گئی لیکن ملا نہیں۔ ہم اسی کی تلاش میں نکلے ہیں۔ جو شخص یہ پیالہ تلاش کر کے بادشاہ کے پیش کرے۔ اس کے لیے ایک بار شتر غلہ انعام مقرر ہوا ہے اور میں اس بات کا ضامن ہوں کہ جو شخص پیالہ ڈھونڈ نکالے میں اس کو بادشاہ سے مقر رہ انعام دلوا دوں، یا اگر خود تلاش کر سکوں تو یہ انعام خود وصول کر لوں۔ اور لفظ زعیم کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مجھ پر ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ جیسے بھی ممکن ہو میں وہ پیالہ ڈھونڈ کر بادشاہ کے حضور پیش کروں اور اس صورت میں مجھے مقررہ انعام بھی ملے گا۔
صواع کے معنی:۔
نیز ان آیات میں دو بار صواع کا لفظ آیا ہے۔ صواع کو بعض لوگوں نے صاع سے مشتق سمجھ کر اس کا معنی غلہ ماپنے کا معروف پیمانہ (پنجابی ٹوپہ) کر دیا ہے۔ حالانکہ یہ لفظ صاع سے مشتق یا ماخوذ نہیں ہے۔ بلکہ اس کا معنی پانی پینے کا ایسا پیالہ ہے۔ جس میں جواہرات وغیرہ جڑے ہوئے ہوں اور اگر یہ پیالہ شیشہ کا ہو تو اسے قدح، لکڑی کا ہو تو عُس، چمڑے کا ہو تو علبۃ اور مٹی کا ہو تو مرکن کہتے ہیں۔ [الجمال والكمال ص 174 از سلمان منصور پوري]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔