ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يوسف (12) — آیت 64

قَالَ ہَلۡ اٰمَنُکُمۡ عَلَیۡہِ اِلَّا کَمَاۤ اَمِنۡتُکُمۡ عَلٰۤی اَخِیۡہِ مِنۡ قَبۡلُ ؕ فَاللّٰہُ خَیۡرٌ حٰفِظًا ۪ وَّ ہُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۶۴﴾
اس نے کہا میں اس پر اس کے سوا تمھارا کیا اعتبار کروں جس طرح میں نے اس کے بھائی پر اس سے پہلے تمھارا اعتبار کیا، سو اللہ بہتر حفاظت کرنے والا ہے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ En
(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
En
(یعقوب علیہ السلام نے) کہا کہ مجھے تو اس کی بابت تمہارا بس ویسا ہی اعتبار ہے جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تھا، بس اللہ ہی بہترین حافﻆ ہے اور وه سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

64۔ یعقوب نے کہا: کیا میں ایسے ہی تم پر اعتبار کروں جیسے اس سے پیشتر اس کے بھائی کے بارے میں اعتبار [61] کیا تھا؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
[61] بیٹوں کا بن یامین کو لے جانے پر اصرار اور باپ کا انکار:۔
جب برادران یوسف واپس اپنے گھر یعنی کنعان پہنچے تو جاتے ہی اپنے والد محترم کو اس گفتگو سے مطلع کیا جو ان کے اور شاہ مصر کے درمیان ہوئی تھی اور بڑی وضاحت سے یہ بھی بتلا دیا کہ اگر آپ بن یمین کو ہمارے ساتھ نہیں بھیجیں گے تو پھر ہمیں کبھی غلہ نہ مل سکے گا اور غلہ کی فراہمی اس دور کی سب سے اہم اور شدید ضرورت ہے۔ لہٰذا آپ ضرور اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے اور جہاں تک ہم سے ہو سکا ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے۔ سیدنا یعقوبؑ نے انھیں جواب دیا کہ بالکل ایسی ہی بات تم نے اس وقت بھی کہی تھی۔ جب تم یوسفؑ کو اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ پھر معلوم نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ماجرا گزرا تم نے بھلا کونسی صحیح بات مجھے بتلائی تھی اور میری تو اس وقت سے اس کے حق میں یہی دعا رہی ہے کہ اللہ اسے زندہ سلامت قائم و دائم اور اپنی حفاظت میں رکھے۔ جہاں کہیں بھی وہ ہو، میں تو ہمیشہ اللہ سے اس کے رحم کا طالب رہا ہوں اور اب تم میرے اس چھوٹے بیٹے کو بھی مجھ سے جدا کرنا چاہتے ہو، یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔