ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يوسف (12) — آیت 52

ذٰلِکَ لِیَعۡلَمَ اَنِّیۡ لَمۡ اَخُنۡہُ بِالۡغَیۡبِ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ کَیۡدَ الۡخَآئِنِیۡنَ ﴿۵۲﴾
یہ اس لیے کہ وہ جان لے کہ میں نے عدم موجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو کامیاب نہیں کرتا۔ En
(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا
En
(یوسف علیہ السلام نے کہا) یہ اس واسطے کہ (عزیز) جان لے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی اور یہ بھی کہ اللہ دغابازوں کے ہتھکنڈے چلنے نہیں دیتا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

52۔ (اس وقت یوسف نے کہا) اس سے میری غرض یہ تھی کہ عزیز کو معلوم ہو جائے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی [51] اور اللہ تعالیٰ خائنوں کی چال کو (کامیابی کی) راہ نہیں دکھاتا
[51] سیدنا یوسف کا صبر و تحمل:۔
جرم کا سب سے بہتر اور اول درجہ کا ثبوت مجرم کا اپنا اعتراف ہوتا ہے اس اعتراف کے بعد جب حق نتھر کر سامنے آگیا تو اس وقت سیدنا یوسفؑ نے تمام لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں نے یہ مطالبہ کیا ہی اس لیے تھا کہ میری پوزیشن عام لوگوں کی نظروں میں بالکل واضح ہو جائے اور اس لیے بھی کہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ دغا بازوں اور خائن قسم کے لوگوں کا فریب چلنے نہیں دیتا۔ اس مقام پر خائن سے مراد وہ ہاتھ کاٹنے والی عورتیں ہیں۔ جنہوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ یوسفؑ بالکل پاکیزہ سیرت انسان ہے اور اصل مجرم زلیخا ہے۔ سیدنا یوسفؑ پر ہی یہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی کہ اسے زلیخا کی بات مان لینا چاہیے۔ سیدنا یوسفؑ نے مقدمہ کی تحقیق تک اپنی قید سے رہائی کے معاملہ کو جس پیغمبرانہ صبر و تحمل سے تاخیر میں ڈالا اس کی داد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں دی ہے۔ «لولبثت فى السجن كما لبث يوسف لا جبت الداعي» [بخاري، كتاب التفسير، باب لقد كان فى يوسف۔۔]
(یعنی اگر میں اتنی مدت قید میں رہتا جتنی مدت یوسفؑ رہے تھے تو میں فوراً۔۔ بلانے والے کے ساتھ ہو لیتا) اس جملہ میں ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا یوسفؑ کے صبر و تحمل کی تعریف فرمائی اور دوسرے نہایت لطیف پیرایہ میں اپنی عبودیت کاملہ اور انکساری کا اظہار فرمایا ہے۔