ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يوسف (12) — آیت 40

مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۰﴾
تم اس کے سوا عبادت نہیں کرتے مگر چند ناموں کی، جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے بارے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت مت کرو، یہی سیدھا دین ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ En
جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
En
اس کے سوا تم جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو وه سب نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہی گھڑ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی، فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اس کے کسی اور کی عبادت نہ کرو، یہی دین درست ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ اللہ کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو وہ تو ایسے نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے ہیں، ان کے لئے اللہ نے کوئی سند [39] نازل نہیں کی۔ اللہ کے سوا یہاں کسی کی فرماں روائی نہیں۔ اس نے یہی حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی دین برحق ہے۔ لیکن اکثر لوگ یہ باتیں جانتے نہیں
[39] شرک اور تقلید آباء:۔
علاوہ ازیں یہ دوسرے آقا یا معبود جن کی عبادت کی جاتی ہے۔ ان کی اصلیت اس کے سوا کچھ نہیں کہ کسی ایک آدمی نے ایسے مشرکانہ عقائد گھڑ کر کسی معبود یا آستانے کے نام منسوب کر دیے۔ پھر یہی عقائد نسلاً بعد نسل ان کی اولاد میں منتقل ہوتے چلے گئے اور بزرگوں کی اندھی عقیدت نے ایسے عقائد کو مذہبی جامہ پہنا دیا۔ کسی نے یہ تحقیق کرنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی کہ کسی الہامی کتاب میں ان کی کچھ دلیل ہے بھی یا نہیں لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہے جو بلا تحقیق اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقلید میں ان معبودوں کے ساتھ ایسے عقائد وابستہ کیے چلی آرہی ہے اور ان کے نام کی نذریں اور قربانیاں دیتی ہے تاکہ وہ انھیں کچھ فائدہ پہنچا سکیں۔ حالانکہ یہ سب ناواقفیت اور جہالت کی باتیں ہیں۔ البتہ جن لوگوں نے یہ کاروبار سنبھالا ہوا ہے۔ انھیں مفت میں نذرانے ملتے رہتے ہیں۔ لہٰذا وہ شرکیہ رسوم کسی صورت چھوڑنا گوارا نہیں کرتے۔