ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يوسف (12) — آیت 22

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗۤ اٰتَیۡنٰہُ حُکۡمًا وَّ عِلۡمًا ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۲۲﴾
اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے بڑا حکم اور بڑا علم عطا کیا اور ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ En
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکوکاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
En
اور جب (یوسف) پختگی کی عمر کو پہنچ گئے ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم دیا، ہم نیک کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ اور جب یوسف اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے انھیں حکمت اور علم [21] عطا فرمایا اور ہم نیک لوگوں کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں
[21] مفسرین کے قول کے مطابق آپ 17 سال کی عمر میں مصر پہنچے اور تین سال کے لگ بھگ عزیز مصر کے گھر میں رہے۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوت فیصلہ اور حکمرانی کے اصول بھی سکھا دیئے اور علم بھی عطا فرمایا۔ علم سے مراد عموماً علم وحی ہی ہوتا ہے اور ایسا علم اللہ تعالیٰ بعثت سے پہلے بھی انبیاء کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی پاکیزہ اور بے داغ ہوتی ہے۔