ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يوسف (12) — آیت 20

وَ شَرَوۡہُ بِثَمَنٍۭ بَخۡسٍ دَرَاہِمَ مَعۡدُوۡدَۃٍ ۚ وَ کَانُوۡا فِیۡہِ مِنَ الزَّاہِدِیۡنَ ﴿٪۲۰﴾
اور انھوں نے اسے تھوڑی قیمت، چند گنے ہوئے درہموں میں بیچ دیا اور وہ اس میں رغبت نہ رکھنے والوں سے تھے۔ En
اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدودے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انہیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ نہ تھا
En
اور انہوں نے اسے بہت ہی ہلکی قیمت پر گنتی کے چند درہموں پر ہی بیچ ڈاﻻ، وه تو یوسف کے بارے میں بہت ہی بے رغبت تھے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ چنانچہ انہوں نے [18] یوسف کو چند درہموں کے عوض حقیر سی قیمت میں بیچ ڈالا۔ اور اس کے بارے میں انھیں اس سے زیادہ کچھ دلچسپی بھی نہ تھی
[18] یوسف کو بیچنے والے کون تھے؟ برادران یوسف یا قافلے والے:۔
بائیبل کی روایت کے مطابق تو قرآن کے لفظ ﴿وَشَرَوْهُ کی ضمیر کا مرجع برادران یوسف ہیں۔ یعنی برادران یوسف نے سیدنا یوسفؑ کو معمولی سی قیمت کے عوض قافلہ والوں کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ کیونکہ وہ یوسف کی خبرگیری رکھتے تھے اور بروقت جھگڑا کھڑا کر دیا کہ یہ لڑکا ہمارا غلام ہے جو گھر سے بھاگ آیا تھا اور ہم اس کی تلاش میں تھے۔ بالآخر انہوں نے ان قافلہ والوں سے معمولی سی قیمت کے عوض اس کی سودا بازی کر لی۔ کیونکہ یہ جو رقم انھیں مل رہی تھی مفت میں مل رہی تھی۔ لہٰذا انہوں نے اتنی قیمت کو بھی غنیمت سمجھا۔ ان کی اصل غرض تو یہی تھی کہ یوسف یہاں سے دور کسی ملک میں پہنچ جائے اور یہ مقصد پورا ہو رہا تھا اور یہی قصہ عوام میں زبان زد عام ہے۔ لیکن قرآن کا سیاق و سباق اس مفہوم کی تائید نہیں کرتا۔ قرآن کے مطابق اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ قافلہ والوں نے مصر میں جا کر اس لڑکے (یوسفؑ) کو فروخت کر ڈالا اور اسے معمولی قیمت میں اس لیے بیچ ڈالا کہ انھیں بھی یہ مال مفت میں ہاتھ لگ گیا تھا۔ لہٰذا زیادہ قیمت لگانے میں ان کی کوئی دلچسپی نہ تھی۔