11۔ (اس تجویز کے بعد) وہ اپنے باپ سے کہنے لگے: کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے بارے [10] میں ہم پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیر خواہ ہیں؟
[10] بھائیوں کا باپ سے یوسف کو ساتھ لے جانے کا مطالبہ:۔
اب سوال یہ تھا کہ وہ یوسفؑ کو اپنے ساتھ کیسے لے جائیں تاکہ اپنی تجویز پر عمل کر سکیں۔ سیدنا یعقوبؑ کو تو پہلے ہی معلوم تھا کہ یوسفؑ کے حق میں ان کے بھائیوں کے دل صاف نہیں ہیں۔ اس غرض کے لیے پھر انھیں جھوٹ اور مکاری سے کام لینا پڑا۔ اپنے باپ سے عرض کیا کہ آخر ہم اس کے بھائی ہی ہیں۔ آپ اسے ہمارے ساتھ آنے جانے میں تامل کیوں کرتے ہیں ہم پر اعتماد کیجئے۔ ہم کوئی اس کے دشمن تو نہیں اور بہتر یہ ہے کہ کل جب ہم اپنے ریوڑ چرانے کے لیے ریوڑ کو جنگل کی طرف لے جائیں۔ تو آپ اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے۔ وہاں اس کا دل بہلے گا۔ جنگل کے پھل وغیرہ کھائے گا۔ وہ کچھ ہم سے مانوس ہو گا۔ ہم اس سے مانوس ہوں گے اور اس کی پوری طرح حفاظت بھی کریں گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔