ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يوسف (12) — آیت 103

وَ مَاۤ اَکۡثَرُ النَّاسِ وَ لَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۳﴾
اور اکثر لوگ، خواہ تو حرص کرے، ہرگز ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ En
اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے نہیں ہیں
En
گو آپ لاکھ چاہیں لیکن اکثر لوگ ایمان دار نہ ہوں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

103۔ اور آپ خواہ کتنا ہی چاہیں [98] ان میں سے اکثر وگ ایمان لانے والے نہیں
[98] کفار مکہ نے سوال یہ کیا تھا کہ بنی اسرائیل تو شام کے ملک میں آباد تھے وہ مصر میں کیسے جا پہنچے، اس سوال کا مفصل جواب اس قصہ میں آ گیا ہے۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ ایمان لے آتے مگر انہوں نے سوال اس لیے نہیں کیا تھا کہ اگر درست جواب مل جائے تو فوراً ایمان لے آئیں گے بلکہ وہ سوال اس لیے کرتے ہیں کہ کوئی ایسی بات ہاتھ لگ جائے جو ان کے عدم اعتماد اور بے ایمانی پر مزید اضافہ کا سبب بن سکے اور اس سے وہ دوسروں کو بھی گمراہ کر سکیں۔ لہٰذا محض آپ کی خواہش کی وجہ سے یہ لوگ کبھی ایمان لانے والے نہیں۔