ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يوسف (12) — آیت 101

رَبِّ قَدۡ اٰتَیۡتَنِیۡ مِنَ الۡمُلۡکِ وَ عَلَّمۡتَنِیۡ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۟ اَنۡتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا وَّ اَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰۱﴾
اے میرے رب! بے شک تو نے مجھے حکومت سے حصہ دیا اور باتوں کی اصل حقیقت میں سے کچھ سکھایا، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا یار و مددگار ہے، مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔ En
(جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو
En
اے میرے پروردگار! تو نے مجھے ملک عطا فرمایا اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھلائی۔ اے آسمان وزمین کے پیدا کرنے والے! تو ہی دنیا وآخرت میں میرا ولی (دوست) اور کارساز ہے، تو مجھے اسلام کی حالت میں فوت کر اور نیکوں میں ملا دے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

101۔ اے میرے پروردگار! تو نے مجھے حکومت بھی عطا کی اور خوابوں کی تعبیر بھی سکھائی۔ تو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے اور تو ہی دنیا اور آخرت [96] میں میرا سرپرست ہے۔ اسلام پر میرا خاتمہ کر اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کر لے“
[96] سیدنا یوسفؑ کی اپنے حق میں دعا:۔
باپ اور بھائیوں سے خطاب کے بعد سیدنا یوسفؑ اسی ہستی کی طرف متوجہ ہوئے جس نے آپ پر یہ سب احسانات فرمائے تھے۔ پہلے ان احسانات کا اعتراف کیا جن کی بنا پر آپ کو ہر طرح کی دنیوی اور دینی بھلائیاں میسر آئی تھیں پھر اس کی حمد و ثنا اور اپنے لیے دعا میں مشغول ہو گئے اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی اللہ کا بندہ جس قدر اللہ کا احسان شناس ہوتا ہے۔ اتنا ہی زیادہ وہ اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول ہو جاتا ہے۔ اس کا دل اللہ کی عظمت اور اس کی مہربانیوں پر شکریہ ادا کرنے کے لیے جھک جاتا ہے۔ اپنے پروردگار سے اس کی محبت اور ایمان میں مزید اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ حمد و ثنا کے بعد دوبارہ آپ نے اعتراف فرمایا کہ تو ہی میرا کارساز، حامی، سرپرست اور نگہبان ہے۔ لہٰذا مجھے اپنی فرمانبرداری پر قائم رکھنا۔ مجھے موت آئے تو تیری فرمانبرداری کی حالت میں آئے اور مرنے کے بعد مجھے نیک لوگوں یعنی میرے آباؤ و اجداد سیدنا ابراہیمؑ، سیدنا اسماعیلؑ، سیدنا اسحاقؑ اور سیدنا یعقوبؑ کے ساتھ ملا دینا، نیز اس سے تمام نیک لوگ بھی مراد لیے جا سکتے ہیں، جیسا کہ الفاظ کے عموم سے واضح ہوتا ہے۔ جب تک سیدنا یعقوبؑ زندہ رہے۔ سیدنا یوسفؑ حکومت کرتے رہے۔ لیکن جب والد فوت ہو گئے تو آپ اپنی مرضی سے اقتدار سے دست بردار ہو گئے سیدنا یعقوبؑ نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹوں کو جو وصیتیں کی تھیں ان کا ذکر سورۃ بقرہ میں گزر چکا ہے۔ منجملہ ایک یہ بھی تھی کہ میری میت کو شام لے جا کر وہاں آباء و اجداد کے ساتھ دفن کرنا۔ چنانچہ سیدنا یوسفؑ خود انھیں دفن کرنے کے لیے شام آئے اور دفن کے بعد واپس چلے گئے۔ ایک دفعہ آپؑ (سیدنا یوسفؑ) نے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا جب بنی اسرائیل مصر سے نکل جائیں گے، اس وقت وہ میری میت کو ساتھ لے جائیں چنانچہ تقریباً پانچ سو سال بعد جب سیدنا موسیٰؑ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے تو سیدنا یوسفؑ کا تابوت بھی ساتھ لے گئے۔
سیدنا یوسفؑ کا زلیخا سے نکاح کا افسانہ:۔
بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ زلیخا بعد میں مسلمان ہو گئی تھی اور سیدنا یوسفؑ نے ان سے نکاح کر لیا تھا۔ لیکن جس قدر تکلف اور تصنع سے اسرائیلی روایات سے کھینچ تان کر یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس میں حقیقت کا حصہ کس قدر ہو سکتا ہے۔ قرآن و احادیث اس بارے میں مطلق خاموش ہیں۔ ویسے بھی کسی پیغمبر کے شایان شان نہیں ہوتا کہ وہ زلیخا جیسی حیا باختہ اور مکرو فریب کرنے والی عورت سے نکاح کرے۔