اس سورت کی ابتدائی تین آیات میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات بیان کر کے اس سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ ایک یہ کہ وہ تمام لوگوں کا پرورش کرنے والا ہے۔ اسے یہ خوب معلوم ہے کہ فلاں شخص کے فلاں شر سے فلاں انسان کو کیا تکلیف پہنچ سکتی ہے؟ دوسرے یہ کہ تمام انسانوں کا بادشاہ بھی ہے۔ یعنی وہ انسانوں پر پورا اقتدار اور اختیار بھی رکھتا ہے اور ظاہری اسباب پر بھی اس کا پورا کنٹرول ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ الٰہ بھی ہے۔ اور الٰہ کے مفہوم میں یہ بات از خود شامل ہے کہ وہ ہر ایک کی فریاد سنتا اور اس کی داد رسی بھی کر سکتا ہے اور تمام باطنی اسباب پر بھی اس کا کنٹرول ہے۔ اور حقیقت میں ایسی ہی ہستی اس بات کی سزاوار ہو سکتی ہے کہ لوگ اس سے دوسروں کے شر سے پناہ طلب کریں۔ وہ پناہ دے بھی سکتا ہے اور دوسروں کے شر سے محفوظ بھی رکھ سکتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔