[6]﴿حَسَد﴾ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت، فضیلت، عز و شرف عطا کیا ہو تو اس پر کوئی دوسرا شخص اس سے جلے اور یہ چاہے کہ اس سے یہ نعمت چھن کر حاسد کو مل جائے یا کم از کم اس سے ضرور چھن جائے۔ البتہ اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اس جیسی نعمت مجھے بھی اللہ عطا کر دے تو یہ حسد نہیں بلکہ رشک ہے جسے عربی زبان میں ﴿غِبطة﴾ کہتے ہیں اور یہ جائز ہے۔ حاسد سے پناہ اس صورت میں مانگی گئی ہے جب وہ حسد کرے اور حسد کی بنا پر کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ اس سے پہلے وہ محسود کے لیے ایسا شر نہیں بنتا کہ اس سے پناہ مانگی جائے۔ وہ اپنے طور پر اندر ہی اندر جلتا ہے تو جلتا رہے۔ اسے اپنے اس عمل کی یہی سزا کافی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔