وَ مِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الۡعُقَدِ ۙ﴿۴﴾
اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے۔
En
اور گنڈوں پر (پڑھ پڑھ کر) پھونکنے والیوں کی برائی سے
En
اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی)
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ اور گرہوں میں [5] پھونک مارنے والیوں کے شر سے
[5] آپ پر جادو :۔
گرہ میں پھونکیں مارنے کا کام عموماً جادوگر کیا کرتے ہیں اور جو لوگ بھی موم کے پتلے بنا کر اس میں سوئیاں چبھوتے ہیں اور کسی کے بال حاصل کر کے ان میں گرہیں لگاتے اور پھونکیں مارتے جاتے ہیں سب جادوگروں کے حکم میں داخل ہیں۔ اور ہمارے ہاں ایسے لوگوں کو جادوگر نہیں عامل کہا جاتا ہے۔ اور جادو کرنا صریحاً کفر کا کام ہے۔ جیسے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 102 میں یہ صراحت موجود ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جادو چونکہ کفر کا کام ہے۔ اس لیے جادو کا اثر کسی ایماندار یا مومن پر نہیں ہو سکتا۔ اور چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی جادو کیا گیا تھا اور اس جادو کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر اثر بھی ہو گیا تھا۔ اور یہ بات اتنی احادیث صحیحہ میں مذکور ہے جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں لہٰذا یہ حضرات اپنے اس نظریہ کے مطابق ایسی تمام احادیث کا انکار کر دیتے ہیں۔ لہٰذا ہم پہلے یہاں بخاری سے ایک حدیث درج کرتے ہیں پھر ان کے اعتراضات کا جائزہ پیش کریں گے۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ سے واپس لوٹے تو آپ پر جادو کیا گیا جس کا اثر یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کام کر رہے ہیں حالانکہ وہ کر نہیں رہے ہوتے تھے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز دعا کی (کہ اللہ اس جادو کا اثر زائل کر دے) پھر فرمانے لگے: عائشہ رضی اللہ عنہا! تجھے معلوم ہوا کہ اللہ نے مجھے وہ تدبیر بتا دی جس سے مجھے اس تکلیف سے شفا ہو جائے۔ ہوا یہ کہ (خواب میں) دو آدمی میرے پاس آئے۔ ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا پائنتی کی طرف۔ ایک شخص نے دوسرے سے پوچھا:”اس شخص کو کیا تکلیف ہے؟“ دوسرے نے کہا ”اس پر جادو کیا گیا ہے“ پہلے نے پوچھا:”کس نے جادو کیا ہے؟“ دوسرے نے جواب دیا:”لبید بن اعصم (یہودی) نے“ پہلے نے پوچھا: ”کس چیز میں جادو کیا؟“ دوسرے نے جواب دیا۔ ”کنگھی اور آپ کے بالوں اور نر کھجور کے خوشے کے پوست میں“ پہلے نے پوچھا: ”یہ کہاں رکھا ہے؟“ دوسرے نے جواب دیا:”ذروان کے کنوئیں میں“ غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنوئیں پر تشریف لے گئے جب وہاں سے پلٹے تو سیدہ عائشہؓ سے فرمایا: ”اس کنوئیں کے درخت ایسے ڈراؤنے ہو گئے تھے جیسے ناگوں کے پھن ہوں“ سیدہ عائشہؓ نے عرض کیا:”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کو (یعنی جادو کے سامان کو) نکالا کیوں نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اللہ نے اچھا کر دیا۔ اب میں نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ لوگوں میں ایک جھگڑا کھڑا کر دوں“ پھر وہ کنواں مٹی ڈال کر بھر دیا گیا۔ [بخاری۔ کتاب بدء الخلق باب صفۃ ابلیس وجنودہ]
اور بخاری کی دوسری روایت جو کتاب الادب میں مذکور ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے نہیں بلکہ چند صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جادو کی اشیاء کنوئیں سے نکلوائی تھیں نیز یہ کہ اس کنوئیں کا پانی جادو کے اثر سے مہندی کے رنگ جیسا سرخ ہو گیا تھا۔ [بخاری۔ کتاب الادب، باب ان اللہ یامر بالعدل والا حسان]
اور بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ:
1 لبید بن اعصم ایک ماہر جادو گر تھا۔
2۔ لبید کی دو لڑکیاں بھی جادوگری کے فن میں ماہر تھیں۔ ان لڑکیوں نے ہی کسی طریقہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال حاصل کر کے ان میں گرہیں لگائی تھیں۔
3۔ ذروان کنوئیں سے جو اشیاء برآمد کی گئیں۔ ان میں کنگھی اور بالوں میں ایک تانت کے اندر گیارہ گرہیں پڑی ہوئی تھیں۔ اور ایک موم کا پتلا تھا جس میں سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں۔ جبریل نے آکر بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معوذتین پڑھیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت پڑھتے جاتے اور اس کے ساتھ ایک ایک گرہ کھولی جاتی اور پتلے میں سے ایک ایک سوئی نکالی جاتی رہی۔ خاتمہ تک پہنچتے ہی ساری گرہیں کھل گئیں کیونکہ ان دونوں سورتوں کی گیارہ ہی آیات ہیں۔ اور ساری سوئیاں نکل گئیں اور آپ جادو کے اثر سے نکل کر یوں آزاد ہو گئے جیسے کوئی بندھا ہوا شخص کھل گیا ہو۔
4۔ لبید بن اعصم کو پوچھا گیا تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ ان احادیث پر پہلا اعتراض یہ ہے کہ نبی پر جادو نہیں ہو سکتا یعنی اگر کوئی کرے بھی تو اس کا اثر نہیں ہوتا۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ نبی پر جادو کا اثر ہونا قرآن سے ثابت ہے۔ فرعون کے جادوگروں نے جب ہزارہا لوگوں کے مجمع میں اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں اور وہ سانپ بن کر دوڑنے لگیں تو اس دہشت کا اثر موسیٰؑ کے دل پر ہو گیا تھا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْليٰ﴾ موسیٰؑ اپنے دل میں ڈر گئے تو ہم نے (بذریعہ وحی) کہا: موسیٰ ڈرو نہیں، تم ہی غالب رہو گے۔
اور بخاری کی دوسری روایت جو کتاب الادب میں مذکور ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے نہیں بلکہ چند صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جادو کی اشیاء کنوئیں سے نکلوائی تھیں نیز یہ کہ اس کنوئیں کا پانی جادو کے اثر سے مہندی کے رنگ جیسا سرخ ہو گیا تھا۔ [بخاری۔ کتاب الادب، باب ان اللہ یامر بالعدل والا حسان]
اور بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ:
1 لبید بن اعصم ایک ماہر جادو گر تھا۔
2۔ لبید کی دو لڑکیاں بھی جادوگری کے فن میں ماہر تھیں۔ ان لڑکیوں نے ہی کسی طریقہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال حاصل کر کے ان میں گرہیں لگائی تھیں۔
3۔ ذروان کنوئیں سے جو اشیاء برآمد کی گئیں۔ ان میں کنگھی اور بالوں میں ایک تانت کے اندر گیارہ گرہیں پڑی ہوئی تھیں۔ اور ایک موم کا پتلا تھا جس میں سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں۔ جبریل نے آکر بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معوذتین پڑھیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت پڑھتے جاتے اور اس کے ساتھ ایک ایک گرہ کھولی جاتی اور پتلے میں سے ایک ایک سوئی نکالی جاتی رہی۔ خاتمہ تک پہنچتے ہی ساری گرہیں کھل گئیں کیونکہ ان دونوں سورتوں کی گیارہ ہی آیات ہیں۔ اور ساری سوئیاں نکل گئیں اور آپ جادو کے اثر سے نکل کر یوں آزاد ہو گئے جیسے کوئی بندھا ہوا شخص کھل گیا ہو۔
4۔ لبید بن اعصم کو پوچھا گیا تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ ان احادیث پر پہلا اعتراض یہ ہے کہ نبی پر جادو نہیں ہو سکتا یعنی اگر کوئی کرے بھی تو اس کا اثر نہیں ہوتا۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ نبی پر جادو کا اثر ہونا قرآن سے ثابت ہے۔ فرعون کے جادوگروں نے جب ہزارہا لوگوں کے مجمع میں اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں اور وہ سانپ بن کر دوڑنے لگیں تو اس دہشت کا اثر موسیٰؑ کے دل پر ہو گیا تھا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْليٰ﴾ موسیٰؑ اپنے دل میں ڈر گئے تو ہم نے (بذریعہ وحی) کہا: موسیٰ ڈرو نہیں، تم ہی غالب رہو گے۔
چند اعتراضات اور ان کے جواب :۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر نبی پر جادو کا اثر تسلیم کر لیا جائے تو شریعت ساری کی ساری ناقابل اعتماد ٹھہرتی ہے۔ کیا معلوم کہ نبی کا فلاں کام وحی کے تحت ہوا تھا یا جادو کے زیر اثر؟ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ واقعہ 7 ھ میں (جنگ خیبر اور صلح حدیبیہ کے بعد) پیش آیا۔ جبکہ یہودی ہر میدان میں پٹ چکے تھے۔ پہلے خیبر کے یہودی ایک سال جادو کرتے رہے جس کا خاک اثر نہ ہوا۔ پھر وہ مدینہ میں لبید بن اعصم کے پاس آئے جو سب سے بڑا جادوگر تھا اور اس کی بیٹیاں اس سے بھی دو ہاتھ آگے تھیں۔ انہوں نے بڑا سخت قسم کا جادو کیا۔ اس کا بھی چھ ماہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ اثر نہ ہوا۔ بعد میں اس کے اثرات نمایاں ہونے شروع ہوئے۔ تاہم اس کا اثر محض آپ کے ذاتی افعال تک محدود تھا۔ یعنی آپ یہ سوچتے کہ میں فلاں کام کر چکا ہوں جبکہ کیا نہیں ہوتا تھا۔ یہ ذہنی کوفت آپ کو چالیس دن تک رہی۔ بعد میں اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقت حال سے آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم شفا یاب ہو گئے۔ اب دیکھیے یہ بات واضح ہے کہ اس وقت تک قرآن نصف سے زیادہ نازل ہو چکا تھا۔ اہل عرب اس وقت دو گروہوں میں بٹ چکے تھے۔ ایک مسلمان اور ان کے حلیف، دوسرے مسلمانوں کے مخالفین، اگر اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر شریعت میں اثر انداز ہوتا، یعنی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ہی نہ پڑھاتے۔ یا ایک کے بجائے دو بار پڑھا دیتے یا قرآن کی آیات خلط ملط کر کے یا غلط سلط پڑھ دیتے یا کوئی اور کام منزل من اللہ شریعت کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرزد ہو جاتا تو دوست و دشمن سب میں یعنی پورے عرب میں اس کی دھوم مچ جاتی۔ جبکہ واقعہ یہ ہے کہ ہمیں ایک بھی ایسی روایت نہیں ملتی جس میں یہ اشارہ تک بھی پایا جاتا ہو کہ اس اثر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شرعی اعمال و افعال میں کبھی حرج واقع ہوا ہو۔ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ کفار کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ انبیاء کو یا تو جادو گر کہتے تھے اور یا جادو زدہ (مسحور) اب اگر ہم خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو اور اس کی اثر پذیری تسلیم کر لیں تو گویا ہم بھی کفار کے ہم نوا بن گئے۔ یہ اعتراض اس لیے غلط ہے کہ کفار کا الزام یہ ہوتا تھا کہ نبی نے اپنی نبوت کے دعویٰ کا آغاز ہی جادو کے اثر کے تحت کیا ہے اور جو کچھ یہ قیامت، آخرت، حشر و نشر اور جنت و دوزخ کے افسانے سناتا ہے۔ یہ سب کچھ جادو کا اثر یا پاگل پن کی باتیں ہیں۔ گویا وہ نبوت اور شریعت کی تمام تر عمارت کی بنیاد جادو قرار دیتے تھے لیکن یہاں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بیس سال بعد پیش آتا ہے جبکہ آدھا عرب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور احکام شریعت کے منزل من اللہ ہونے پر ایمان رکھتا تھا۔ پھر یہ واقعہ احکام شریعت پر چنداں اثر انداز بھی نہیں ہوا البتہ اس واقعہ سے اس کے برعکس یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے۔ کہ آپ ہرگز جادوگر نہ تھے۔ کیونکہ جادوگر پر جادو کا اثر نہیں ہوتا۔