ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفلق (113) — آیت 3

وَ مِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ ۙ﴿۳﴾
اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ En
اور شب تاریکی کی برائی سے جب اس کااندھیرا چھا جائے
En
اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ اور اندھیری [4] رات کے شر سے جب وہ چھا جائے
[4] جرائم زیادہ تر رات کی تاریکی میں کیے جاتے ہیں :۔
﴿غَاسِقٍ ﴿غسق﴾ بمعنی شفق غائب ہو جانے کے بعد کا اندھیرا۔ اس لحاظ سے ﴿غاسق﴾ اس ابتدائی رات کو کہتے ہیں کہ جب وہ تاریک ہونے لگتی ہے اور ﴿وقب﴾ کسی چٹان وغیرہ میں گڑھے کو کہتے ہیں اور ﴿وَقَبَ بمعنی گڑھے میں داخل ہو کر غائب ہو جانا اور ﴿وَقَبَ الظَّلاَمُ بمعنی اتنی تاریکی چھانا جس کے اندر اشیاء غائب ہو جائیں اور تاریک رات کے شر سے پناہ مانگنے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر گناہ کے کام رات کی تاریکیوں میں کیے جاتے ہیں۔ چوری، ڈاکہ، لوٹ مار، زنا وغیرہ کے مجرم عموماً رات کی تاریکیوں میں ہی ایسے کام کرتے ہیں۔ اور عرب قبائل میں تو دستور ہی یہ تھا کہ جب کسی قبیلے پر لوٹ مار کرنا ہوتی تو رات میں سارا سفر ختم کر لیتے اور صبح کی روشنی نمودار ہوتے ہی لوٹ مار کا بازار گرم کر دیتے تھے۔