ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الإخلاص (112) — آیت 4

وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪﴿۴﴾
اور نہ کبھی کوئی ایک اس کے برابر کا ہے۔ En
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں
En
اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اور اس کا ہمسر کوئی [5] نہیں۔
[5] ﴿كفو﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿كُفُوًا: کفاء کپڑے کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جو اس جیسے دوسرے ٹکڑے سے ملا کر خیمہ کی پچھلی طرف ڈال دیا جاتا ہے اور ﴿كفو﴾ اور ﴿كُفٰي بمعنی ہم پایہ، ہم پلہ، مرتبہ و منزلت میں ایک دوسرے کے برابر ہونا۔ اس کے مقابلہ اور جوڑ یا ٹکر کا ہونا۔ ﴿كفو﴾ کا لفظ عموماً میدان جنگ میں دعوت مبارزت کے وقت یا نکاح اور رشتہ کے وقت بولا جاتا ہے۔ فلان ﴿كفو﴾ لفلان یعنی فلاں شخص فلاں کے جوڑ کا یا مد مقابل یا ہمسر ہے۔ رشتہ کے وقت بھی فریقین یہ دیکھتے ہیں کہ دوسرے فریق کی معاشی، معاشرتی اور تمدنی حالت اس جیسی ہے یا نہیں؟ بس یہی ﴿كفو﴾ کا مفہوم ہے۔ اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی ذات کے متعلق طرح طرح کے سوال کرتے ہیں ان سے کہہ دیجیے کہ اس کائنات میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کے جوڑ کی ہو اور تمہیں سمجھایا جا سکے کہ اللہ فلاں چیز کی مانند ہے۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ
سورہ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے :۔
واضح رہے کہ چونکہ اس سورت میں توحید کے جملہ پہلوؤں پر مکمل روشنی ڈال دی گئی ہے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت کو تہائی قرآن کے برابر قرار دیا ہے اور یہ چیز بیشمار احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں بنیادی طور پر تین عقائد پر ہی زور دیا گیا ہے۔ اور وہ ہیں توحید، رسالت اور آخرت۔ اس سورت میں توحید کا چونکہ جامع بیان ہے اس لیے اسے قرآن کی تہائی کے برابر قرار دیا گیا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے:
1۔ سیدنا ابو الدرداء سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم ہر رات کو ایک تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: کوئی شخص تہائی قرآن کیسے پڑھ سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ”تہائی قرآن کے برابر ہے“ [مسلم۔ کتاب فضائل القرآن۔ باب فضل قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔]
2۔ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جمع ہو جاؤ تاکہ میں تمہارے سامنے قرآن کا تیسرا حصہ پڑھوں ہم جمع ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے۔ اور سورت ﴿قُلْ هُوَاللّٰهُ أحْدٌ پڑھی۔ پھر اندر چلے گئے۔ ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ شاید آسمان سے کوئی خبر آئی ہے جس کے لیے آپ اندر چلے گئے۔ پھر آپ باہر نکلے تو فرمایا: ”میں نے تم سے کہا تھا کہ تمہارے سامنے تہائی قرآن پڑھوں گا۔ سو یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔“ [حواله ايضاً]
3۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک فوج پر سردار مقرر کر کے بھیجا۔ وہ اپنی فوج کی نماز میں قرآن پڑھتے اور قراءت کو ﴿قُلْ ھُوَاللّٰہُ أحْدٌ پر ختم کرتے تھے۔ جب فوج لوٹ کر آئی تو لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اس سے پوچھو وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ رحمٰن کی صفت ہے اور میں اسے دوست رکھتا ہوں کہ اسے پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ اسے کہہ دو کہ اللہ تمہیں دوست رکھتا ہے“ [حواله ايضاً]