[1] اللہ کے اکیلے اور وحدہ لاشریک ہونے پر کفار کا تعجب اور سوالات :۔
آیت کے انداز سے ہی معلوم ہو رہا ہے کہ یہ کسی سوال کا جواب دیا جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے اللہ کی دعوت دے رہے تھے جبکہ دور نبوی کی ساری دنیا طرح طرح کے شرک میں مبتلا تھی۔ لہٰذا اللہ کی ذات کے متعلق آپ سے کئی بار سوال ہوا اور کئی قسم کے فرقوں کی طرف سے ہوا۔ سب سے پہلے یہ سوال مشرکین مکہ نے اٹھایا تھا۔ جو ہر خوبصورت پتھر کو معبود بنا لیتے تھے اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اس سوال کی نوعیت درج ذیل حدیث سے واضح ہوتی ہے۔ سیدنا ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنے رب کا ہم سے نسب بیان کرو۔ تو اللہ نے یہ سورت اتار دی کہ آپ انہیں کہہ دیں کہ ”وہ اکیلا ہے۔ ﴿الله صمد﴾ ہے اور ﴿صمد﴾ وہ ہوتا ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا ہو اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہو۔ اس لیے کہ جو کسی سے پیدا ہو گا ضرور مرے گا اور جو مرے گا اس کا کوئی وارث بھی ہو گا۔ اور اللہ نہ مرے گا اور نہ اس کا کوئی وارث ہو گا اور نہ اس کا کوئی ﴿كفو﴾ ہے۔“ راوی کہتا ہے کہ ﴿كفو﴾ کی معنی یہ ہے کہ نہ کوئی اس کے مشابہ ہے اور نہ برابر ہے اور اس کی مثال کوئی چیز نہیں۔ [ترمذي۔ كتاب التفسير] مشرکوں کے بعد جس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کے بارے میں کوئی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سورت پڑھ کر سنا دیتے تھے۔
[2] مختلف قوموں کے خداؤں کی تعداد :۔
﴿اَحَدٌ﴾ بمعنی لاثانی، بے نظیر، یکتا، اس لحاظ سے اس لفظ کا اطلاق صرف ذات باری تعالیٰ پر ہوتا ہے۔ غیر اللہ کے لیے واحد کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ گنتی میں ایک، دو، تین کے لیے واحد، اثنین، ثلٰثۃ آتا ہے۔ واحد کے بجائے ﴿احد﴾ نہیں بولا جاتا۔ البتہ دو موقعوں پر ﴿احد﴾ کا لفظ واحد کا مترادف ہو کر آتا ہے۔ (1) اسمائے اعداد کی ترکیب میں جیسے احد عشر (گیارہ) ﴿احدهما﴾ (دونوں میں سے کوئی ایک۔) ﴿احَدٌمِّنْكُمْ﴾ (تم میں سے کوئی ایک) ﴿اَحَدُكُمْ ﴾(تمہارا کوئی ایک) یوم الاحد (اتوار) وغیرہ (2) نفی کی صورت میں صرف ذوی العقول کے لیے آتا ہے جیسے: ﴿لَيْسَفِيالدَّارِاَحَدٌ﴾ (گھر میں کوئی بھی نہیں ہے) جبکہ واحد کا لفظ عام ہے جو ماسوا اللہ کے لیے تو عام مستعمل ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے صرف اس صورت میں کہ اللہ کی کوئی صفت بھی مذکور ہو جیسے: ﴿هُوَاللّٰهالْوَاحِدُالْقَهَّار﴾[13: 16] یعنی اللہ وہ ہے جو اکیلا ہے سب کو دبا کر رکھنے والا۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ صرف ایک ہی ہے۔ دو نہیں۔ جیسا کا مجوسیوں کا عقیدہ ہے کہ نیکی کا خدا یزدان ہے اور بدی کا خدا اہرمن ہے۔ تین بھی نہیں جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ باپ، بیٹا اور روح القدس تینوں خدا ہیں اور تینوں مل کر بھی ایک ہی خدا بنتا ہے۔ یا ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ خدا، مادہ اور روح تینوں ہی ازلی ابدی ہیں۔ وہ تینتیس کروڑ بھی نہیں جیسا کہ ہندو اپنے دیوی دیوتاؤں کی تعداد شمار کرتے ہیں بلکہ وہ ایک اور صرف ایک ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔