ابو لہب کی بیوی کا نام ارویٰ اور کنیت ام جمیل تھی۔ ابو سفیان بن حرب بن امیہ کی بہن تھی۔ جو ابو جہل کی موت کے بعد رئیس قریش اور سپہ سالار افواج بنا تھا۔ رسول دشمنی میں یہ عورت بھی اپنے خاوند سے کسی صورت کم نہ تھی۔ جنگل سے خار دار جھاڑ جھنکار اٹھا لاتی اور رات کے اندھیرے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے آگے ڈال دیتی تاکہ جب آپ صبح بیت اللہ کو جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں کانٹے چبھ جائیں۔ نیز آپ کے بال بچے بھی زخمی ہوں۔ خاصی بد زبان اور مفسدہ پرداز عورت تھی۔ جب سورۃ لہب نازل ہوئی تو یہ مٹھی بھر کنکریاں لے کر بیت اللہ کو چل کھڑی ہوئی۔ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجو کی صورت میں سورۃ لہب کا جواب دے اور کنکریاں مار کر اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کرے۔ اتفاق کی بات کہ اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نظر ہی نہ آئے۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ سے کہنے لگی:”تمہارا ساتھی کدھر ہے؟ سنا ہے وہ میری ہجو کرتا ہے۔“ سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے جواب دیا کہ ”اس نے تو کوئی ہجو نہیں کی۔ (یعنی اگر ہجو کی ہے تو وہ اللہ نے کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی) یہ جواب سن کر وہ واپس چلی آئی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں