ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ هود (11) — آیت 80

قَالَ لَوۡ اَنَّ لِیۡ بِکُمۡ قُوَّۃً اَوۡ اٰوِیۡۤ اِلٰی رُکۡنٍ شَدِیۡدٍ ﴿۸۰﴾
اس نے کہا کاش! میرے پاس تمھارے مقابلہ کی کچھ طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔ En
لوط نے کہا اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط قلعے میں پناہ پکڑ سکتا
En
لوط ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ لوط نے کہا: کاش! میں تمہارا [90] مقابلہ کر سکتا یا کسی مضبوط سہارے کی طرف پناہ لے سکتا
[90] سیدنا لوطؑ کی بے بسی:۔
سیدنا لوطؑ اس علاقہ سدوم میں غریب الدیار تھے سیدنا ابراہیمؑ کے بھتیجے تھے۔ پہلے عراق سے ہجرت کر کے فلسطین آئے پھر جب انھیں نبوت عطا ہوئی تو سیدنا ابراہیمؑ نے انھیں بغرض تبلیغ سدوم بھیج دیا۔ یہاں ان کا کوئی کنبہ قبیلہ بھی نہ تھا۔ بیوی بھی کافر تھی اور اسی قوم کی فرد تھی اور ان لواطت کرنے والے مشٹنڈوں سے ساز باز رکھتی تھی اور جب کوئی مہمان گھر پر آتا تو انھیں خفیہ طور پر یا اشاروں سے مطلع کر دیا کرتی تھی ان فرشتوں کی آمد کی بھی اسی نے ان لوگوں کو اطلاع دی تھی۔ یہ تھا سیدنا لوطؑ کی بے بسی کا عالم کہ گھر میں بیوی بھی ان کی مخالف تھی۔ اسی بے بسی کے عالم میں ان مشٹنڈوں کے بارے میں آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے ”کاش میں تمہارا مقابلہ کر سکتا یا کسی مضبوط سہارے کی طرف پناہ لے سکتا“ یعنی اگر میرا بھی یہاں مضبوط قبیلہ یا برادری ہوتی تو شاید میں ایسا بے بس اور مجبور نہ ہوتا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ سیدنا لوطؑ کے بعد جتنے بھی انبیاء مبعوث ہوئے سب بڑے جتھے اور قبیلے والے تھے۔