اور اس کی قوم (کے لوگ) اس کی طرف بے اختیار دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے اور وہ پہلے سے برے کام کیا کرتے تھے۔ اس نے کہا اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں، یہ تمھارے لیے بہت پاکیزہ ہیں، تو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں؟
En
اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم! یہ (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں، یہ تمہارے لیے (جائز اور) پاک ہیں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کھوؤ۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں
اور اس کی قوم دوڑتی ہوئی اس کے پاس آپہنچی، وه تو پہلے ہی سے بدکاریوں میں مبتلا تھی، لوط ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا اے قوم کے لوگو! یہ ہیں میری بیٹیاں جو تمہارے لئے بہت ہی پاکیزه ہیں، اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوا نہ کرو، کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں
En
78۔ اور اس کی قوم کے لوگ دوڑتے ہو ان کے ہاں آ گئے۔ وہ پہلے سے ہی بد کاری کیا کرتے تھے۔ لوط نے انھیں کہا: اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں [88] ہیں جو تمہارے لئے پاکیزہ تر ہیں۔ لہذا اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی بھلا مانس نہیں؟
[88] مشٹنڈوں کا گھس آنا اور سیدنا لوطؑ کی پیش کش:۔
ان مہمانوں کی آمد کی اطلاع پاتے ہی کچھ مشٹنڈے گھر کی دیواریں پھاند کر وہاں پہنچ گئے اور سیدنا لوطؑ سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے حوالہ کر دو یہی وہ لمحہ تھا جو سیدنا لوطؑ کے لیے سوہان روح بنا ہوا تھا۔ چنانچہ سیدنا لوطؑ نے مہمانوں کا دفاع کرنے کی خاطر کہا کہ یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں میں تم سے ان کا نکاح کر دیتا ہوں اور یہی تمہارے لیے پاکیزہ تر راستہ ہے اور مہمانوں کا مجھ سے مطالبہ نہ کرو۔ نہ ہی ان کے سامنے مجھے رسوا کرو اور یہ بات آپ نے اس لیے کہی کہ یہ لوگ آپ سے آپ کی بیٹیوں کے رشتہ کا مطالبہ کر چکے تھے لیکن آپ نے ان کی بری حرکات دیکھ کر ان کو رشتہ سے جواب دے دیا تھا اب مہمانوں کی اور اپنی عزت بچانے کی خاطر ان کا یہ مطالبہ بھی منظور کر لیا اور انھیں یہ عار بھی دلائی کہ کیا تم شرم و حیا اور بد کرداری کی سب حدیں پھاند گئے ہو اور تم میں کوئی بھی ایسا بھلامانس آدمی موجود نہیں رہا جو دوسروں کو سمجھا سکے یا میری بات مان لے۔
بیٹیوں سے مراد:۔
بعض مفسرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ”میری بیٹیوں“ سے مراد قوم کی سب بیٹیاں ہیں کیونکہ نبی پوری قوم کا روحانی باپ ہوتا ہے اور قوم کی بیٹیاں اس کی روحانی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ بات بھی درست ہے مگر موقعہ کی نزاکت اسی شرح کا مطالبہ کرتی ہے جو پہلے پیش کی گئی ہے اور قرآن کے ظاہری الفاظ بھی اسی کی تائید کرتے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔