ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ هود (11) — آیت 71

وَ امۡرَاَتُہٗ قَآئِمَۃٌ فَضَحِکَتۡ فَبَشَّرۡنٰہَا بِاِسۡحٰقَ ۙ وَ مِنۡ وَّرَآءِ اِسۡحٰقَ یَعۡقُوۡبَ ﴿۷۱﴾
اور اس کی بیوی کھڑی تھی، سو ہنس پڑی تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی۔ En
اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی، ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی
En
اس کی بیوی جو کھڑی ہوئی تھی وه ہنس پڑی، تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی خوشخبری دی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

71۔ اور ابراہیم کی بیوی جو پاس کھڑی تھی۔ ہنس دی تو ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد [82] یعقوب کی بھی
[82] سیدہ سارہ کو خوشخبری دینا:۔
سیدنا ابراہیمؑ کی بیوی سارہ بھی پاس کھڑی یہ مکالمہ سن رہی تھیں جب یہ اندیشہ دور ہوا تو خوشی سے ان کی ہنسی نکل گئی پھر فرشتوں نے انھیں ایک بیٹے جس کا نام اسحاق ہو گا کی خوشخبری دی اور یہ بھی بتلایا کہ اسحاق کے بعد اس سے یعقوب بھی ویسا ہی اولوالعزم پیغمبر پیدا ہو گا اور یہ خوشخبری خصوصاً سیدہ سارہ کو اس لیے دی گئی کہ وہ بے اولاد تھیں جبکہ سیدنا ابراہیمؑ صاحب اولاد تھے اور دوسری بیوی ہاجرہ کے بطن سے سیدنا اسماعیلؑ پیدا ہو چکے تھے اس لیے یہ خوشخبری سیدنا ابراہیم علیہ اسلام کے مقابلہ میں سیدہ سارہ کے لیے بہت زیادہ خوشی کی بات تھی۔ بعض مفسرین نے یہاں ضحکت کے معنی حاضت بھی کیا ہے یعنی ”سیدہ سارہ کو حیض آگیا“ امام راغب نے اس کی یہ وضاحت کر دی ہے کہ یہ ضحکت کے معنی نہیں ہیں البتہ یہ ممکن ہے کہ بچہ کے حمل قرار پانے کی علامت کے طور پر انھیں حیض آ گیا ہو اور حیض آنے کے معنی یہ تھے کہ انھیں حمل قرار پا سکتا ہے اور اولاد ہو سکتی ہے۔