ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ هود (11) — آیت 49

تِلۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہَاۤ اِلَیۡکَ ۚ مَا کُنۡتَ تَعۡلَمُہَاۤ اَنۡتَ وَ لَا قَوۡمُکَ مِنۡ قَبۡلِ ہٰذَا ؕۛ فَاصۡبِرۡ ؕۛ اِنَّ الۡعَاقِبَۃَ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿٪۴۹﴾
یہ غیب کی خبروں سے ہے جنھیں ہم تیری طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے نہ تو انھیں جانتا تھا اور نہ تیری قوم، پس صبر کر، بے شک اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔ En
یہ (حالات) منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں۔ اور اس سے پہلے نہ تم ہی ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے
En
یہ خبریں غیب کی خبروں میں سے ہیں جن کی وحی ہم آپ کی طرف کرتے ہیں انہیں اس سے پہلے آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم، اس لئے آپ صبر کرتے رہیئے (یقین مانیئے) کہ انجام کار پرہیزگاروں کے لئے ہی ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ (اے نبی) یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف [54] وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پیشتر انھیں نہ آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم۔ لہذا آپ صبر کیجئے کیونکہ انجام (بخیر) پرہیزگاروں [55] ہی کے حق میں ہوتا ہے۔
[54] نوحؑ کا زمانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً چار ہزار سال پیشتر کا ہے اس دور کے مستند اور صحیح ترین حالات کی اطلاع دینا اللہ ہی کا کام ہو سکتا ہے۔ اہل مکہ ان حالات سے مطلقاً بے خبر تھے گویا یہ نوحؑ کا قصہ اس تفصیل سے بتا دینا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے۔
[55] یعنی بالآخر اچھا انجام اللہ سے ڈرنے والوں کا ہی ہوتا ہے جیسا کہ نوحؑ کے ساتھیوں کا ہوا بلکہ ہر حق و باطل کے معرکہ میں، خواہ اس کا تعلق انبیاء سے ہو یا نہ ہو۔ بالآخر غلبہ حق کو ہی حاصل ہوتا ہے اور حق پرست ہی انجام کے لحاظ سے بہتر رہتے ہیں اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اخروی زندگی میں بہرحال اللہ سے ڈرنے والوں کا ہی انجام بخیر ہو گا اور یہ دونوں مطلب درست ہیں گویا اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کو خوش خبری بھی دی گئی ہے۔