کہا گیا اے نوح! اتر جا ہماری طرف سے عظیم سلامتی اور بہت سی برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان جماعتوں پر جو ان لوگوں سے ہوں گی جو تیرے ساتھ ہیں۔ اور کئی جماعتیں ہیں جنھیں ہم عنقریب سازوسامان دیں گے، پھر انھیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔
En
حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اتر آؤ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہوں گی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) محظوظ کریں گے پھر ان کو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا
فرما دیا گیا کہ اے نوح! ہماری جانب سے سلامتی اور ان برکتوں کے ساتھ اتر، جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کی بہت سی جماعتوں پر اور بہت سی وه امتیں ہوں گی جنہیں ہم فائده تو ضرور پہنچائیں گے لیکن پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا
En
48۔ حکم ہوا: ”نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اور ان جماعتوں پر (نازل ہوئیں) جو تیرے ساتھ ہیں، کشتی سے اتر آؤ۔ اور (ان کی نسل سے) کچھ اور امتیں ہوں گی جنہیں ہم سامان زیست [53] دیں گے پھر انھیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا“
[53] نوحؑ اور آپ کے ساتھیوں کا پھر زمین پر آباد ہونا:۔
جب کشتی جودی پہاڑ پر ٹک گئی تو نوحؑ کو بذریعہ وحی مطلع کیا گیا کہ اب پانی نہیں چڑھے گا بلکہ اترتا چلا جائے گا لہٰذا کشتی سے سب سوار بخیر و عافیت اتر آؤ۔ یہ لوگ پہلے جودی پہاڑ پر اترے پھر آہستہ آہستہ زمین کے خشک ہونے پر زمین پر اتر آئے اس سیلاب کے بعد زمین سے پھل اور غلہ بافراط پیدا ہوئے جس سے نوحؑ کے ساتھی خوشحال ہو گئے اور امن و چین سے پھر زمین پر آباد ہو کر رہنے لگے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ خبر بھی دے دی کہ ان لوگوں کی اولاد سے بھی سرکش لوگ پیدا ہوں گے تو انھیں بھی اللہ اپنے دستور کے مطابق عذاب سے دوچار کرے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں