اور وہ انھیں لے کر پہاڑوں جیسی موج میں چلی جاتی تھی، اور نوح نے اپنے بیٹے کو آواز دی اور وہ ایک علیحدہ جگہ میں تھا، اے میرے چھوٹے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ (شامل) نہ ہو۔
En
اور وہ ان کو لے کر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ تھا، پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو
وه کشتی انہیں پہاڑوں جیسی موجوں میں لے کر جا رہی تھی اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے لڑکے کو جو ایک کنارے پر تھا، پکار کر کہا کہ اے میرے پیارے بچے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں شامل نہ ره
En
42۔ وہ کشتی ان لوگوں کو لئے چلی جا رہی [48] تھی جبکہ ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ اس حال میں نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا جبکہ وہ ایک کنارے پر (کھڑا) تھا: ”بیٹا! ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہو جا اور کافروں کا ساتھ نہ دے“
[48] طوفان کی کیفیت اور نوحؑ کا اپنے بیٹے کو نصیحت کرنا:۔
طوفان کی یہ صورت تھی کہ مسلسل چھ ماہ تک چشمے زمین سے پانی اگلتے رہے اور آسمان سے مسلسل بارش ہوتی رہی۔ حتیٰ کہ ٹیلے اور پہاڑ سب کچھ اس پانی میں ڈوب گئے کشتی پانی کے ساتھ ساتھ اوپر اٹھ رہی تھی اور جس طرح اللہ اسے چلاتا چلتی جا رہی تھی۔ جب پانی ابھی اوپر اٹھ رہا تھا اور پانی کی سطح زمین سے خاصی بلند ہو رہی تھی اور پانی کی لہریں پہاڑ کی طرح اٹھ اٹھ کر ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔ اس دوران ایک واقعہ پیش آیا۔ نوحؑ کا کافر بیٹا یام یا کنعان جسے کشتی میں سوار نہیں کیا گیا تھا ایک پہاڑی کے کنارے لگ کر کھڑا طوفان کی ہولنا کیاں دیکھ رہا تھا۔ نوحؑ کی اس پر نظر پڑ گئی تو پدرانہ شفقت نے جوش مارا اور اسے کہنے لگے ”بیٹے! ایمان لے آؤ اور ہمارے ساتھ اس کشتی میں سوار ہو جاؤ اور کافروں کا ساتھ چھوڑ دو“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔