یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ گیا اور تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا اس میں ہر چیز میں سے دو قسمیں (نر و مادہ) دونوں کو اور اپنے گھر والوں کو سوار کر لے، سوائے اس کے جس پر پہلے بات ہوچکی اور ان کو بھی جو ایمان لے آئے اور اس کے ہمراہ تھوڑے سے لوگوں کے سوا کوئی ایمان نہیں لایا۔
En
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا تو ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور۔ ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجائے گا) اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو جو ایمان لایا ہو اس کو کشتی میں سوار کر لو اور ان کے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور ابلنے لگا ہم نے کہا کہ اس کشتی میں ہر قسم کے (جانداروں میں سے) جوڑے (یعنی) دو (جانور، ایک نر اور ایک ماده) سوار کرا لے اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی، سوائے ان کے جن پر پہلے سے بات پڑ چکی ہے اور سب ایمان والوں کو بھی، اس کے ساتھ ایمان ﻻنے والے بہت ہی کم تھے
En
40۔ یہاں تک کہ ہمارا (عذاب کا) حکم آ پہنچا اور تنور [46] ابلنے لگا تو ہم نے نوح سے کہا کہ اس کشتی میں ہر قسم کے جانوروں کا ایک جوڑا (نر و مادہ) رکھ لو، اور اپنے گھر والوں کو بھی سوار کر لو بجز ان اشخاص کے جن کے متعلق پہلے بتا دیا جا چکا ہے (کہ وہ ہلاک ہوں گے) اور جو ایمان لائے ہیں، انھیں بھی سوار کر لو۔ اور وہ تھوڑے ہی لوگ تھے جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے
[46] طوفان نوح کا آغاز:۔
طوفان نوح کا آغاز تنور سے چشمہ پھوٹنے سے ہوا۔ ایک قول کے مطابق تنور سے مراد وہی معروف تنور ہے جس میں روٹیاں پکائی جاتی ہیں اور ایک قول کے مطابق تنور سے مراد سطح زمین ہے۔ پھر ارد گرد کی زمین سے کئی مزید چشمے پھوٹنے شروع ہو گئے اور اوپر سے لگاتار بارش شروع ہو گئی۔ پہلا چشمہ پھوٹنے پر نوحؑ کو حکم دے دیا گیا کہ سب ایمان والوں کو اس کشتی میں سوار کر لو اور جو جانور بھی اس وقت روئے زمین پر موجود ہیں اور نر و مادہ سے پیدا ہوتے ہیں ان کا ایک ایک جوڑا (یعنی نر و مادہ) بھی اس کشتی میں رکھ لو۔ اپنے گھر والوں میں سے جو مومن ہیں ان سب کو بھی سوار کر لو اور وہ حام، سام، یافث اور ان کے اہل و عیال تھے اور جو ایمان نہیں لائے انھیں اس کشتی میں مت سوار کرنا اور ان میں نوحؑ کا بیٹا یام بھی تھا جسے کنعان بھی کہا جاتا تھا اور نوحؑ کی بیوی واعلہ جو کافر تھی اور کنعان کی والدہ تھی۔ آپ کے خاندان سے یہ دو افراد بھی طوفان کی نذر ہوئے تھے اور ایمان لانے والے بہت تھوڑے لوگ ہی تھے جن کی تعداد 80 سے متجاوز نہیں تھی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔